فرانسیسی مصور رینوار کی نایاب پینٹنگ 1.68 ملین یورو میں نیلام
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پیرس میں ڈروؤٹ ہاؤس کی جانب سے منعقدہ نیلامی میں مایہ ناز فرانسیسی امپریشنسٹ مصور پیئر آگست رینوار کی ایک نایاب پینٹنگ 1.68 ملین ڈالر میں فروخت ہوگئی۔
’چائلڈ وِد ٹوائز، گیبریئیل اینڈ دی آرٹسٹز سن، ژاں‘ کے عنوان سے 1895 کے لگ بھگ بنائی گئی یہ تخلیق رینوار نے اپنی واحد شاگرد اور قریبی دوست جین بودو کو تحفے میں دی تھی، اور تب سے یہ انہی کے خاندان کی ملکیت میں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جنیوا: پکاسو کے قدیم منفرد فن پارے توقعات سے زیادہ قیمت پر نیلام
رینوار امپریشنزم کے اُن صفِ اوّل کے فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے انیسویں صدی کے اختتام پر مصوری کے امکانات کو نئی جہت دی۔
Renoir painting of son sold for $1.
— Reuters World (@ReutersWorld) November 25, 2025
اگرچہ ان کی 130 سالہ پرانی اس پینٹنگ کی حالیہ فروخت خاصی اہم ہے، تاہم قیمت اُس ریکارڈ سے کہیں کم رہی جو کلاڈ مونیہ کی معروف ’ہے اسٹیکس‘ سیریز میں سے ایک پینٹنگ نے 2023 میں 110.7 ملین ڈالر پر قائم کیا تھا۔
یہ مصوری رینوار کے بیٹے ژاں رینوار اور ان کی آیا گیبریئیل ریناڑ کو دکھاتی ہے، گیبریئیل وہ ماڈل تھیں جنہوں نے تقریباً 200 فن پاروں کے لیے رینوار کے سامنے پوز کیا۔
مزید پڑھیں: اطالوی مصور کا قدیم فن پارہ ساڑھے 11 ارب روپے میں نیلام
نیلامی کے منتظم کرسٹوف ژوروں-دیرم کے مطابق یہ قربت کا شاہکار ہے۔ ’یہاں ژاں اور گیبریئیل کے درمیان بے حد نرم اور پیار بھرا تعلق نظر آتا ہے، اور گیبریئیل کی یہی مہارت ہے کہ وہ بچے کو اس طرح تھامے رکھتی ہیں کہ رینوار اسے باآسانی پینٹ کر سکیں۔‘
1894 میں پیدا ہونے والے ژاں رینوار آگے چل کر ایک ممتاز فلم ساز بنے، وہ 1979 میں وفات پا گئے۔
رینوار کے ماہر اور آرٹ کنسلٹنٹ پاسکال پیرین کا کہنا ہے کہ یہ فن پارہ ’غیر معمولی حد تک محفوظ حالت‘ میں ہے اور اس کے تمام رنگ آج بھی ’بے مثال طور پر‘ واضح ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیرس ڈروؤٹ ہاؤس شاگرد نیلامی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیرس ڈروؤٹ ہاؤس شاگرد نیلامی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔