سیشن جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیشن جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دوران سماعت وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ 7 نومبر کو پٹیشن پر نمبر لگا آج 26 ہوگئی، اب تک تو فیصلہ ہو جانا چاہیے، آپ چیف جسٹس ہیں، آپ کے پاس اختیارات ہیں، یہ جوڈیشری کا معاملہ ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سن لیا، اس پر آرڈر پاس کریں گے، کیوں نہ معاملہ ہائی کورٹ کی انسپکشن ٹیم کو بھجوا دیا جائے، کیونکہ سیشن کورٹ کے ججز کا معاملہ انسپکشن ٹیم کو بھجوایا جاتا ہے۔
سیشن جج ناصر جاوید رانا کو احتساب عدالت اسلام آباد کا جج تعینات کر دیا گیا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو 2004 میں آبزرویشن دی تھیں، جو نوٹیفکیشن آپ چیلنج کر رہے ہیں اس میں بظاہر کوئی غیر قانونی چیز نہیں، جو بات آپ کر رہے ہیں اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے جج کو بحال کر دیا تھا۔ آپ کو بڑے ادب سے سمجھا دیا ہے پھر بھی آپ کو مسئلہ ہے تو لاہور ہائی کورٹ جائیں۔
واضح رہے کہ سیشن جج ناصر جاوید رانا نے 190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیشن جج ناصر جاوید رانا اسلام آباد ہائی کورٹ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔