بنو قابل پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ کیا جا رہا ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی بنو قابل پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کر رہی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستانی نوجوانوں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے نوجوانوں کے مقابلے میں کھڑا کرنا ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں، معاشی خود مختاری حاصل کریں اور ملک کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوجوانوں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل سرمایہ اس کا باصلاحیت نوجوان طبقہ ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے حکمرانوں نے نوجوانوں کو صرف نعروں، جھوٹے خوابوں اور سیاسی مفادات تک محدود رکھا۔ جماعت اسلامی اس روایت طرز سیاست کو بدلے گئی۔ بنو قابل پروگرام کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو آئی ٹی، ای آئی، فری لانسنگ، گرافکس ڈیزائننگ، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان نہ صرف روزگار حاصل کریں بلکہ خود روزگار کے مواقع پیدا کرکے ملکی معیشت کو مضبوط بنائیں۔ہماری جدوجہد کا مقصد پاکستان کو جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور لٹیروں کے قبضے سے آزاد کرانا ہے۔ ملک تب ہی ترقی کر سکتا ہے جب دولت اور مواقع چند خاندانوں تک محدود رکھنے کے بجائے عام آدمی اور نوجوان کو آگے بڑھنے کا راستہ دیا جائے۔ جماعت اسلامی اس جدوجہد کو امانت، دیانت اور خدمت کے اصولوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران طبقہ طرزِ حکمرانی کو تبدیل کرے، تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے دروازے کھولے۔ بنو قابل جیسے پروگرام اسی سمت میں عملی قدم ہیں۔ اگر قوم ہمارا ساتھ دے تو ہم پاکستان کو جدید، خوشحال اور باوقار ریاست بنا کر دکھائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نوجوانوں کو
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔