20 نومبر کے اخبارات کی اطلاع کے مطابق اسرائیل نے لبنان میں واقع ایک پناہ گزیں کیمپ پر فضائی حملہ کرکے تقریباً 13 افراد کو شہید کر دیا اور متعدد کو زخمی کر دیا۔ یہ حملہ لبنان میں واقع عین الحلوہ کے پناہ گزیں کیمپ پر کیا گیا۔اسرائیل نے جنگ بندی کے نفاذ سے لے کر اب تک 383 مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 279 افراد شہید 602 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کے مغربی کنارے پر تقریباً 36 فلسطینیوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کی گرفتاری مہمان نوازی کے لیے عمل میں نہیں آئی ہے بلکہ یہ اب اسرائیلی بربریت کا شکار ہوں گے اور نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا کیا حشر ہوگا۔
یہ عجیب مضحکہ خیز جنگ بندی ہے اور یقینا پوری انسانی تاریخ میں بڑی بڑی جنگوں کے بعد جنگ بندی کی ایسی اور اتنی خلاف ورزی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ جنگ بندی کی ایسی اور اتنی تعداد میں خلاف ورزی کو اقوام عالم کیسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتی رہی ہیں اور عالمی مزاج کو ایسی زباں بندی کیوں کر راس آگئی۔
امریکا بہادر جس کے صدر کا خیال ہے کہ وہ ’’امن کے پیامبر‘‘ ہیں اور انھوں نے جنگ بندی کرا کے لاکھوں افراد کی جان بچائی ہے، وہ اہل فلسطین و غزہ کے خون کی اس ارزانی پر کیوں خاموش رہے اور امریکا کو تو اس لیے مورد الزام قرار دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا اور اہل دنیا کا چوہدری ہے اور اگر ایک طرف امن کا اتنا ہی خیال ہے تو پھر اس کی ذمے داری ہے کہ وہ اہل فلسطین کی جانوں کی اس ارزانی پر خاموش نہ رہتا۔
مگر ہمیں تو گلہ اپنوں سے بھی ہے۔ بے چارے قریبی مسلم ممالک تو کسی گنتی شمار میں نہیں ، ان کو خاموش تماشائی بنے رہنے میں ہی عافیت نظر آتی ہے سو وہ خاموش رہے مگر ترکیہ، ایران اور پاکستان کو کیا ہو گیا تھا، وہ سب جنگ بندی ایسی اور اتنی دلیرانہ خلاف ورزیوں پر کیوں خاموش رہے؟
ہمارے ایک دوست جو اپنے حلقے میں بزرجمہر سمجھے جاتے ہیں فرما رہے تھے کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ دراصل امریکی صدر کے تعریفی کلمات کے سحر میں مبتلا تھا۔ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کی شان میں تعریف کا ایسا صور پھونکا کہ پاکستانی اہل اقتدار کو اپنی عافیت اسی میں نظر آئی کہ وہ ان خلاف ورزیوں پر ’’بے زبانی‘‘ کا مظاہرہ کریں اور خود بھی عافیت میں رہیں۔ یہ جو 279 شہید ہوئے اور ان کے علاوہ جو عرصہ دراز سے نیتن یاہو کے ہٹلری مظالم کا شکار ہو کر اللہ کو پیارے ہوگئے وہ بڑے آرام کی جگہ اور بڑے انعامات سے فیض یاب ہو رہے ہوں گے کہ ظالم کے ہاتھوں موت کو گلے لگانے کا مزہ کچھ اور ہوتا ہے مگر ان کی موت کا باعث بننے والے اسرائیلی درندوں کے نامہ اعمال میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ رنگ لا کر رہے گا۔
اسرائیل کا معاملہ تو خدا کے سپرد ہے مگر اہل فلسطین مسائل و مصائب کی ایسی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں جن سے ان کی نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ عالمی طاقتیں بڑے زعم میں رہتی ہیں اور غم خواری و فلسطین کی آبادکاری کے سلسلے میں دل کش دعوے کرتی رہتی ہیں کہ ان کی دوبارہ آبادکاری کا بوجھ عالمی برادری اٹھائے گی اور یہ کہ اس پر اس قدر خرچ آئے گا اور یہ خرچ بھی عالمی برادری ہی برداشت کرے گی انھیں بھی علم ہے کہ اس آبادکاری میں (اگر وہ کی جا سکی) سالوں لگ جائیں گے۔ اتنے عرصے تک یہ بے سر و سامان لوگ خستہ حال خیموں میں زندگی گزارتے رہیں گے۔
ہم لوگ جو اپنے گھروں میں چین کی نیند سو رہے ہیں وہ ان کی بے دردی و بے سر و سامانی کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ ان کو جو خیمے فراہم کیے گئے تھے ان کی حالت اس وقت تک خستہ ہے، پھر پچھلے دنوں بارش ہوئی تو یہ لوگ پانی میں بھیگتے رہے، اب سردی نے آ لیا ہے تو یہ اپنے شکستہ خیموں میں آگ جلا کر اپنے رشتہ جاں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو نہ پانی سے بچنے کا امکان ہے نہ موسم کے شدائد کا مقابلہ کرنے کی سکت ہے۔ نہ ان کے پاس اب روزگار کے وسائل ہیں۔
جو غذائی اور تن پوشی کی امداد بین الاقوامی اداروں کے ذریعے ان تک پہنچائی جانی تھی وہ درندہ صفت اسرائیلیوں نے روک رکھی ہے۔ شاید براستہ مصر کچھ خوراک اور کپڑے ان تک پہنچانے کی صورت بنتی ہے وہ بھی اس قدر تاخیر سے کہ بعض صورتوں میں یہ بنیادی ضروریات کی مدد انھیں اس وقت پہنچتی ہے جب انھیں اس کی ضرورت نہیں رہتی یعنی ان کا رشتہ جاں ہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ وسائل سے یہ محرومی اہل غزہ کے لیے ایسی اذیت کا باعث ہے کہ زندگی جس کے لیے وہ تکالیف اٹھا رہے ہیں، عذاب لگنے لگتی ہے وہ زندگی کے بجائے موت کی تمنا کرتے ہوں گے۔
شاید ہم مسلمانوں کو بحیثیت ملت اپنے اعمال کی یہ سزا ہے کہ ان کی تکالیف کا احساس رکھتے ہوئے بھی ہم کہ جو ایک جسم کی مانند ہونے کے باوجود اپنے ہی وجود کے ایک حصے کی شدید تکالیف کا نہ پوری طرح ادراک کر سکتے ہیں، نہ ان کی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ ہماری آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہیں۔ ہمارے دست و پا جیسے کسی نے باندھ دیے ہوں۔ شاید ہم زبانی جمع خرچ کرنے کے ہی لائق ہیں، ہم کہ کبھی ایک قوم نہیں ملت ہوا کرتے تھے کہ اگر اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی تو پورا جسم چلا اٹھتا، تڑپ اٹھتا اور مدد کے لیے آ موجود ہوتا۔ آج ہم صرف خاموش تماشائی ہیں۔ کیا اس خاموشی کی قیمت ابھی چکانا نہیں ہوگی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔