Jasarat News:
2026-07-24@04:22:49 GMT

آئینی ترمیم اور قومی سمت ایک فکری جائزہ

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251124-03-3
آئین کسی ریاست کا محض قانونی دستاویز نہیں ہوتا بلکہ وہ قومی بصیرت، اجتماعی سمت اور فیصلہ سازی کے بنیادی تصور کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ پاکستان میں ماضی کی آئینی ترامیم جیسے چوبیسویں، پچیسویں اور حالیہ ستائیسویں ترمیم ہمیشہ کسی نہ کسی انتظامی، سیاسی یا وفاقی ضرورت کو سامنے رکھ کر کی گئیں، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ترمیم صرف الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ مستقبل کے نظام کی تشکیل کا اشارہ ہوتی ہے، اور اس کی کامیابی اس وقت مکمل مانی جاتی ہے جب وہ قانونی تقاضوں کے ساتھ ساتھ فکری اتفاقِ رائے کا حصہ بھی بن جائے۔ حالیہ ترمیم پارلیمانی اکثریت سے منظور ضرور ہوئی، تاہم اس کے بعد جس نوعیت کا مکالمہ سامنے آیا، اس نے یہ پہلو نمایاں کیا کہ قانونی طور پر فیصلہ مکمل ہو جانے کے باوجود، اس کی حقیقی قبولیت تب تک قائم نہیں ہوتی جب تک وہ ادارہ جاتی توازن، عدالتی خودمختاری اور عوامی اعتماد کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو۔

سرکاری موقف کے مطابق اس ترمیم کا مقصد نظم و نسق کو بہتر بنانا اور جدید ریاستی تقاضوں کے تحت فیصلہ سازی کو مؤثر کرنا ہے، مگر آئینی و قانونی حلقوں میں یہ بحث بھی شدت اختیار کر رہی ہے کہ آیا یہ تبدیلی اختیارات کی ساخت میں ایسا رخ متعین کر رہی ہے جو مستقبل میں اداروں کے درمیان توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بعض اعلیٰ آئینی شخصیات کی جانب سے حالیہ دنوں میں اختیار کیے گئے اصولی موقف نے بھی اس بحث کو مزید گہرائی دی، جسے کچھ اہل ِ فکر نے اس تناظر میں دیکھا کہ آئین پر اعتماد صرف قانونی حیثیت سے نہیں بلکہ اخلاقی توازن سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ عمومی طور پر عوام براہِ راست ایسے مباحث میں شامل نہیں ہو پاتے کیونکہ ان کی ترجیحات معاشی دباؤ اور روزمرہ زندگی کے تقاضوں سے وابستہ ہوتی ہیں، تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وہ فیصلے جو کسی قوم کی لاعلمی میں قبول ہو جائیں، ان کا اثر سب سے پہلے اسی معاشرے کی روزمرہ زندگی پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہی سوال اب سامنے آ رہا ہے کہ آیا یہ ترمیم مستقبل میں ہم آہنگی اور مؤثریت لائے گی یا کسی نئے فکری موڑ کا آغاز کرے گی۔

قومی پالیسی کے فیصلے اس وقت دیرپا ثابت ہوتے ہیں جب وہ صرف پارلیمانی اکثریت کے زور پر نہیں بلکہ ذمے دارانہ سوچ، اجتماعی شعور اور اداروں کی باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کیے جائیں۔ نئی نسل اگر آئینی عمل کو جذباتی ردِعمل کے بجائے تجزیاتی نقطہ ٔ نظر سے دیکھے، تو یہی مباحث آئندہ اصلاح اور فکری بلوغت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

آخرکار، آئین تبدیل ہو سکتا ہے لیکن سمت وہی بدلتی ہے جب فیصلہ شعور کے ساتھ کیا جائے، کیونکہ بعض اوقات ایک ترمیم قانون سے بڑھ کر آنے والے وقت کی سوچ کو تشکیل دیتی ہے، اور ایسے لمحوں میں قلم صرف اظہار کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ راستے متعین کرنے کی امانت بن جاتا ہے۔

رمیصاء عبدالمھیمن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ساتھ

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن