ایل جی بی ٹی کیو پر بات کرنے والے بچوں کے جنسی استحصال پر خاموش رہتے ہیں، نادیہ جمیل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
سینئر اداکارہ نادیہ جمیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایل جی بی ٹی کیو پر بات کرنے والے ملک میں جاری بچوں کے جنسی استحصال پر خاموش رہتے ہیں۔
نادیہ جمیل کی نوجوان لڑکیوں کے گروپ سے خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے معاشرتی تلخ حقائق پر بات کی۔
اداکارہ نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل ایک صحافی نے خفیہ کیمرے سے لاہور اور دیگر شہروں میں بچوں کے 9 جسم فروشی کے اڈے دریافت کیے جہاں 7 سے 16 سال کے بچوں کا استحصال ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو دیکھ کر دل دہل گیا۔
نادیہ جمیل کے مطابق اسکولوں، گھروں، تعلیمی اداروں، ٹرک اڈوں اور کوئلے کی کانوں سمیت مختلف مقامات پر کم عمر بچوں کا جنسی استحصال جاری ہے لیکن کوئی بھی اس پر بولنے کو تیار نہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ اس ایشو پر بات کرتے ہوئے وہ جذباتی ہو جاتی ہیں، اور سوال اٹھایا کہ اگر ہم اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تو باقی معاملات پر کیوں آواز اٹھاتے ہیں؟ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں اس مسئلے کو عام فہم سمجھا جاتا ہے، جس پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نادیہ جمیل پر بات
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔