سندھ پولیس گیمز 2025ء کا اختتام، پولیس ہیڈکوارٹر گارڈن ساؤتھ میں اختتامی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
تقریب سے خطاب میں وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن ہوگا تو کاروبار بھی ترقی کرے گا اور کراچی کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں سندھ پولیس مؤثر کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس گیمز کے انعقاد کا سہرا آئی جی سندھ اور چیئرمین سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سر جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ پولیس گیمز 2025ء کا شاندار اختتام پر پولیس ہیڈکوارٹر گارڈن جنوبی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، جن کے استقبال کے لیے پولیس کے دستے نے سلامی پیش کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کے بعد شہداء سندھ پولیس کی یادگار پر دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ تقریب میں آئی جی سندھ سمیت تمام رینج و دیگر معزز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بارہ سال بعد سندھ پولیس گیمز کا انعقاد خوش آئند ہے اور امید ظاہر کی کہ اب یہ ایونٹ ہر سال باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے 217 خواتین کھلاڑیوں کی بھرپور شرکت کو قابل تحسین قرار دیا اور تمام کھلاڑیوں کے اسپورٹس مین اسپِرٹ کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی رینج نے پہلی، ایس ایس یو نے دوسری جبکہ ٹیلی کام پولیس نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں اسپورٹس کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات جاری ہیں اس ضمن میں اسپورٹس کوٹے پر بھرتی کی سمری جلد ارسال کی جائے۔اسپورٹس کوٹے پر بھرتی ون ونڈو سسٹم کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن ہوگا تو کاروبار بھی ترقی کرے گا اور کراچی کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں سندھ پولیس مؤثر کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس گیمز کے انعقاد کا سہرا آئی جی سندھ اور چیئرمین سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سر جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ اور مضبوط پولیس ہی جرائم کے خلاف مؤثر ڈھال ہوتی ہے جبکہ گیمز ٹیم ورک، نظم و ضبط اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے آئی جی سندھ سے کہا کہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے ون بیسک کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی، ذہنی اور اخلاقی مضبوطی جرائم کے خلاف جنگ کے لیے ناگزیر ہے جبکہ گیمز اس مضبوطی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھیل انسانی جسم اور ذہن کو توانا رکھتے ہیں، اور پولیسنگ جیسا چیلنجنگ شعبہ ہر سال ایسے مقابلوں کا متقاضی ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اعلان کیا کہ سندھ پولیس گیمز کا انعقاد اب ہر سال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اس خطے کی قدیم ترین اور پہلی باقاعدہ فورس ہے اس فورس کو جدید تیکنیکس سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش اور کرائم کے شعبہ جات میں بہتری لائی جارہی ہے اور پولیس جرائم کے خلاف اپنی کارروائیاں تسلسل سے جاری رکھے گی۔ آئی جی نے مزید بتایا کہ ان کے سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد اور میرپور خاص کے دوروں کے دوران پولیس کو پرعزم پایا اور یہی عزم کھیل کے میدانوں میں بھی جاری رہیگا۔ تقریب کے آخر میں فاتح کھلاڑیوں میں میڈلز اور شیلڈز تقسیم کی گئیں جبکہ شاندار آتش بازی نے آسمان کو روشن کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ سندھ سندھ پولیس گیمز کہ سندھ پولیس نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔