تقریب سے خطاب میں وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن ہوگا تو کاروبار بھی ترقی کرے گا اور کراچی کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں سندھ پولیس مؤثر کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس گیمز کے انعقاد کا سہرا آئی جی سندھ اور چیئرمین سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سر جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ پولیس گیمز 2025ء کا شاندار اختتام پر پولیس ہیڈکوارٹر گارڈن جنوبی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، جن کے استقبال کے لیے پولیس کے دستے نے سلامی پیش کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جس کے بعد شہداء سندھ پولیس کی یادگار پر دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ تقریب میں آئی جی سندھ سمیت تمام رینج و دیگر معزز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بارہ سال بعد سندھ پولیس گیمز کا انعقاد خوش آئند ہے اور امید ظاہر کی کہ اب یہ ایونٹ ہر سال باقاعدگی سے منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے 217 خواتین کھلاڑیوں کی بھرپور شرکت کو قابل تحسین قرار دیا اور تمام کھلاڑیوں کے اسپورٹس مین اسپِرٹ کی تعریف کی۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی رینج نے پہلی، ایس ایس یو نے دوسری جبکہ ٹیلی کام پولیس نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں اسپورٹس کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات جاری ہیں اس ضمن میں اسپورٹس کوٹے پر بھرتی کی سمری جلد ارسال کی جائے۔اسپورٹس کوٹے پر بھرتی ون ونڈو سسٹم کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن ہوگا تو کاروبار بھی ترقی کرے گا اور کراچی کی سیکیورٹی بہتر بنانے میں سندھ پولیس مؤثر کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کامیاب ٹیموں اور کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس گیمز کے انعقاد کا سہرا آئی جی سندھ اور چیئرمین سندھ پولیس اسپورٹس بورڈ کے سر جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ اور مضبوط پولیس ہی جرائم کے خلاف مؤثر ڈھال ہوتی ہے جبکہ گیمز ٹیم ورک، نظم و ضبط اور لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے آئی جی سندھ سے کہا کہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے ون بیسک کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی، ذہنی اور اخلاقی مضبوطی جرائم کے خلاف جنگ کے لیے ناگزیر ہے جبکہ گیمز اس مضبوطی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ کھیل انسانی جسم اور ذہن کو توانا رکھتے ہیں، اور پولیسنگ جیسا چیلنجنگ شعبہ ہر سال ایسے مقابلوں کا متقاضی ہے۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اعلان کیا کہ سندھ پولیس گیمز کا انعقاد اب ہر سال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس اس خطے کی قدیم ترین اور پہلی باقاعدہ فورس ہے اس فورس کو جدید تیکنیکس سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش اور کرائم کے شعبہ جات میں بہتری لائی جارہی ہے اور پولیس جرائم کے خلاف اپنی کارروائیاں تسلسل سے جاری رکھے گی۔ آئی جی نے مزید بتایا کہ ان کے سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد اور میرپور خاص کے دوروں کے دوران پولیس کو پرعزم پایا اور یہی عزم کھیل کے میدانوں میں بھی جاری رہیگا۔ تقریب کے آخر میں فاتح کھلاڑیوں میں میڈلز اور شیلڈز تقسیم کی گئیں جبکہ شاندار آتش بازی نے آسمان کو روشن کردیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیر داخلہ سندھ سندھ پولیس گیمز کہ سندھ پولیس نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شاداب خان نے اچھی اننگ کھیلی ،وہ باؤلر سے اچھے آل راؤنڈر بن گئے ؛ مائیک ہیسن
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل