وزیراعلیٰ سندھ کی زیرقیادت بچوں کے عالمی دن پر آگاہی واک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہفتہ کے روز سی ویو پر بچوں کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک کی قیادت کی اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔سی ویو آمد پر وزیراعلیٰ کا استقبال صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود میر طارق علی تالپور، سیکریٹری سماجی بہبود آغا سہیل اور دیگر افسران نے کیا۔ یہ تقریب سماجی بہبود کے محکمے کی جانب سے منعقد کی گئی جس کا مقصد بچوں کے حقوق، ان کے تحفظ، تعلیم اور بہبود سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔ واک میں شریک شہریوں نے سندھ بھر میں بچوں کے تحفظ کے لیے جاری حکومتی کوششوں کو سراہا۔واک کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بچوں سے محبت بھرے انداز میں گفتگو کی اور کہا کہ بچے قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر بچہ خود کو محفوظ، پُراعتماد اور بااختیار محسوس کرے۔ دنیا بچوں کی وجہ سے خوبصورت ہے اور ان کی محبت اور صحیح تربیت سے مزید خوبصورت ہوجاتی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں صوبے میں اسکول سے باہر بچوں کی تشویشناک تعداد، جو صرف سندھ میں 70 ہزار ہے، کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے اعلان بتایا کہ ان بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے کے لیے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف ہے کہ آئندہ تین برسوں میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کو نصف تک کم کیا جائے اور مخیر حضرات سے درخواست کی کہ وہ نئے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل لرننگ اسکولوں کی معاونت کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو آئندہ پانچ سالوں میں ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 50 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے بچوں کے بچوں کی کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔