خیبرپختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار بچے مزدوری پر مجبور؛صوبے میں چائلڈ لیبرایکشن پلان کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پشاور: خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے، صوبے میں 7 لاکھ 45 ہزار بچے مزدوری پر مجبور ہیں۔
محکمہ محنت کی رپورٹ کے مطابق یہ بچے 5 سے 17 سال کی عمر کے ہیں جبکہ چائلڈ لیبر میں شامل بچوں میں 70 فیصد لڑکے شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر بچوں کے تحفظ کیلئے چائلڈ لیبر ایکشن پلان کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مختلف محکموں کو فوری نوعیت کے اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلعی اعداد و شمار میں بنوں اور لوئر دیر چائلڈ لیبر سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں پہلے نمبروں پر ہیں، 74 فیصد بچے انتہائی ابتر اور بدترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی مناسب نظام موجود نہیں۔
میڈیا ذرائع کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چائلڈ لیبر میں شامل بڑی تعداد زراعت کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے جہاں کم عمر بچے سخت محنت اور طویل اوقات کار کے باعث جسمانی و ذہنی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات میں غربت، معاشی دباؤ اور سکولوں کی کمی شامل ہیں جس کے باعث والدین مجبوری کے تحت بچوں کو تعلیم کے بجائے کام پر بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
محکمۂ محنت کے مطابق بنائے گئے ایکشن پلان کے تحت انسدادِ چائلڈ لیبر یونٹس کی ازسرِ نو تنظیم، بچوں کی فلاحی سکیموں کا آغاز اور والدین کی معاشی مدد کے لیے خصوصی پروگرام بھی جلد متعارف کرائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل چائلڈ لیبر
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔