فارم 47 کی مسلط حکومت نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
کوئٹہ میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس پر عائد پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اس تحریک سے خوفزدہ ہے اور اس کا جمہوری حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما آغا حسن نے اپنے بیان میں کہا کہ فارم 47 کی مسلط اور نااہل حکومت نے صوبے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف پالیسیوں نے شہر کو مسائلستان بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پاور شو، ہم نے چوروں کی حکومت کا راستہ روکنا ہے، محمود اچکزئی
انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات کے باعث عوام ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے بلاوجہ انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے جس سے کاروباری، معاشی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
آغا حسن کا کہنا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور اس کی بندش دراصل اظہار رائے پر قدغن اور عوامی شعور ختم کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے شہر میں شاہراہوں اور سڑکوں کی بے جا بندش پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جس کے باعث مریض گھنٹوں ایمبولینسوں میں پھنسے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کی ملک گیر احتجاج کی حکمت عملی طے، جلسے کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ اہم شاہراہوں کو توڑ پھوڑ کر شہر کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ ناکوں اور تلاشیوں کے باعث شہری مسلسل ذہنی کوفت کا شکار ہیں۔ ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی نقصان کے باعث کوئٹہ آنے سے گریز کر رہی ہیں۔
انہوں نے سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہونے والے گیس بحران کو بھی شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی گھریلو صارفین کے لیے وبال جان بن گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سخت سردی کے باعث بچے اور بزرگ موسمی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی سے بارہا رابطوں کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ عوام گیس کمپنی اور غیر نمائندہ حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہو چکے ہیں، حکومت اپنی غلط پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور صوبے کے عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک تحفظ ا ئین پاکستان انہوں نے کے باعث کہا کہ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔