کوئٹہ میں تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کی پریس کانفرنس رُکوا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کے صوبائی قائدین کی مجوزہ پریس کانفرنس اس وقت روک دی گئی جب پولیس کی بھاری نفری پریس کلب کے باہر پہنچ گئی اور اجلاس میں شریک کارکنوں کو اندر جانے سے منع کردیا۔
پولیس نے پریس کلب کے اطراف کے تمام راستے بند کر دیے، جبکہ پریس کانفرنس کے لیے آنے والے کارکنوں کو واپس بھیج دیا گیا۔
صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہوئی جب قائدین کی ممکنہ گرفتاری کے لیے قیدی وین بھی پریس کلب کے سامنے لا کھڑی کی گئی۔
پولیس کی کارروائی کے باعث صوبائی قائدین پریس کانفرنس نہ کر سکے، جبکہ تنظیم کی جانب سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔