جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین فوکس مینار پاکستان پر نہ رکھیں، شہر کی بہتری پر توجہ دیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن چیئرمین فوکس مینار پاکستان پر توجہ نہ دیں، شہر کے مسائل حل کرنے پر کام کریں۔ میئر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اجتماعِ عام اور نعیم الرحمان کے لاہور جانے کے باوجود کراچی میں جماعت اسلامی کے پوسٹرز لگے ہوئے ہیں، اور انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کو شہر کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کراچی کا ماسٹر پلان بھی یاد دلایا، کہا کہ 2003 میں جماعت اسلامی کے دور میں پلان تبدیل ہوا اور سڑکوں کو کمرشلائز کیا گیا، جبکہ 2007 میں اسے دوبارہ تبدیل کیا گیا۔
میئر نے ایم کیو ایم کو شہر کے لیے مستقل قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اختیارات کی کمی پر رونا روتے ہوئے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں 10 ارب روپے گلیوں کی مرمت پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور گریکس کالونی میں آر او پلانٹ کا افتتاح کیا گیا ہے، جو 5 کلومیٹر دور سے سمندر کا پانی میٹھا کر کے شہریوں کو فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاست صرف تنقید کے لیے ہو سکتی ہے یا ترقی کے لیے، اور حکومت کے ناقدین باوجود اختیارات کے کچھ نہیں کر پا رہے۔
میئر نے مزید بتایا کہ 21 دسمبر تک دوسری حب کینال کا کام مکمل کر لیا جائے گا، جس سے ضلع غربی اور کیماڑی کے عوام کو اضافی پانی مل سکے گا، جبکہ پہلا صنعتی پانی کا انفراسٹرکچر 31 دسمبر تک فعال ہوگا۔ پہلے فیز میں 20 آر او پلانٹس گلی محلوں میں لگائے جائیں گے، اور ملیر میں کام شروع ہو چکا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی کے لیے بھی کہا: “اللہ ہی ان کی ہدایت کرے، ورنہ وہ ہدایت سے بالاتر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔