اگر میں قابل قدر نہیں تو ساتھ کام بھی نہ کریں، شیفالی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
فائل فوٹو
بالی ووڈ کی باصلاحیت اداکارہ شیفالی شاہ نے کہا ہے کہ اگر میں قابل قدر نہیں تو میرے ساتھ کام بھی نہ کریں۔
ایک انٹرویو میں 52 سالہ اداکارہ نے کہا کہ اپنی قدر پہچاننے، حدود مقرر کرنے اور غیر منصفانہ ورکنگ کنڈیشنز کے خلاف کھڑے ہونے میں انہیں برسوں لگے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ پروڈیوسرز آج بھی فنکاروں پر بلاوجہ کے سمجھوتے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں لیکن اب وہ بنیادی سہولیات پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ اب صاف ستھری وین، مناسب کام کے اوقات اور اپنی ٹیم کےلیے عزت پر کھل کر بات کرتی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ میرے شوہر بھی مجھے وقت پر کام سے گھر آنے کی تاکید کرتے ہیں تاکہ میں خود کو تھکا نہ دوں، اب میں روزانہ کام کو 10 تا 12 گھنٹے تک محدود رکھتی ہوں۔
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ میں ہمیشہ اپنی ٹیم کو سہولیات فراہم کرتی ہوں، اپنے وسائل یعنی کھانے اور پینے کی چیزیں بانٹ دیتی ہوں، میں تاخیر سے اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ خود کی قدر کرنا ہی سب سے اہم ہے، چاہے گناہ سا ہی کیوں نہ محسوس ہو۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں کام کرنے پر مجھے اعتراض نہیں ہے مگر شرط یہ ہے کہ سب کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کیا جائے۔
شیفالی شاہ دہلی کرائم سیزن 3 کی ریلیز کے بعد نیشنل ایوارڈ اور انٹرنیشنل ایمی ایوارڈ جیت چکی ہیں، اب وہ خود کو اُس مقام پر محسوس کرتی ہیں، جہاں انہیں اپنے جائز مطالبات پر اعتماد محسوس ہوتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پروڈیوسرز کہتے ہیں یہ فی الحال ممکن نہیں، جو موجود ہے اسی میں گزارا کریں، اس پر صاف کہہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے یہ نہیں کہہ سکتے، آپ تھوڑا حقیقت پسند بنیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔