ثانیہ زہرہ کیس اور سماج سے سوال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بیٹیاں ہمارے گھروں کی رونق ہیں، ان کے ناز اٹھائے جاتے ہیں، ان کے منہ سے نکلی ہوئی ہر ’جائز’ خواہش پوری کی جاتی ہے۔ لیکن ہم میں سے کتنی بیٹیاں ایسی ہیں جن کے کانوں میں کبھی نہ کبھی بچپن میں یہ آواز پڑی ہوگی، چاہے وہ کسی رشتہ دار کی ہو، چاہے ماں یا باپ کی، کہ دیکھو! اس کے اتنے ناز نہ اٹھاؤ، بعد میں پریشانی ہوگی۔ اس کو کچھ کام کاج تو سکھا دو، اگلے گھر کیا کرے گی، پھوہڑ کو کون رکھے گا؟ اسے سمجھاؤ کہ اپنے مزاج میں نرمی پیدا کرے، ذرا سہج کر رہے۔ اگلے گھر کوئی یہ نخرے برداشت نہیں کرے گا۔
بیٹی کی پیدائش پر کوئی آنٹی یا انکل منہ لٹکا کر کہہ دیتے ہیں’۔۔۔ دیکھو، بیٹی تو رحمت ہے، بیٹیوں سے تو ڈر نہیں لگتا، بس ان کی قسمت سے ڈر لگتا ہے‘۔
کیوں ڈر لگتا ہے؟ کیا بیٹی کی قسمت پیدائشی طور پر بیٹے کے مقابلے میں کمزور ہے؟
نہیں! ۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ اُس کی قسمت وہ خود نہیں لکھتی، اُس کے گھر والے، اس کا معاشرہ لکھتا ہے جو اُسے اپنی قسمت خود لکھنے کی کوئی آزادی نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں:ظہران ممدانی، قصہ گو سیاستدان
ملتان کی رہائشی ثانیہ زہرہ کے ماں باپ نے بھی یقیناً اپنی بیٹی کو محبت سے پالا ہوگا۔ پھر کم عمری میں شادی کردی کہ اچھا رشتہ مل گیا۔ اور جب وہ لڑ جھگڑ کر واپس آئی ہوگی تو شاید یہ بھی سمجھایا ہوگا کہ سمجھوتا ہی سب سے بہتر حل ہے۔
بیٹیاں تو سسرال میں ہی سجتی ہیں۔
وقت بدل جائے گا، بچے بڑے ہوں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔
ہم بھی یہی سنتے ہیں نہ کہ اپنا گھر بچانا عورت کا فرض ہے۔
اور پھر ایک دن وہ 22 سالہ حاملہ لڑکی 2 بچے روتے چھوڑ گئی۔ اگلے گھر سے بہت جلدی اگلے جہان بھیج دی گئی۔
حال ہی میں سیشن کورٹ نے گھریلو تشدد کے نتیجے میں قتل ہونے والی ثانیہ زہرہ کے کیس میں تاریخی فیصلہ سنایا۔اُس کا شوہر سزائے موت کا حق دار ٹھہرا، اور دیور اور ساس عمر قید کی سزا پا چکے ہیں۔ ان سب نے قتل عمد کو خودکشی کا رنگ دیا تھا۔ 40 سے زیادہ گواہوں کی گواہیاں، فرانزک شواہد، حکومتی کوششیں، سول سوسائٹی ، سوشل میڈیا ایکٹوزم اور سب سے بڑھ کر اُس کے والد کی لمبی جدوجہد نے یہ ممکن بنایا۔
سوشل میڈیا پر لوگ اسے صرف ایک باپ کی جیت نہیں بلکہ گھریلو تشدد کا شکار بہت سی عورتوں کے لیے اُمید کی کرن بتا رہے ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا اب کوئی لڑکی پنکھے سے لٹکی ہوئی نہیں ملے گی؟
یہ بھی پڑھیں:آو کہ کوئی خواب بُنیں کل کے واسطے
کیا اب کوئی باپ صرف ’ذمہ داری اتارنے‘ کے لیے 15 سولہ سالہ بیٹی کا نکاح نہیں کرے گا؟
کیا اب کوئی لڑکی یہ سوچ کر ظلم برداشت نہیں کرے گی کہ ’سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے، بسنے کے لیے تکلیف اٹھانی ہی پڑتی ہے‘۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم رشتوں کے پردے رکھنے کو انسانی جان اور ذہنی صحت سے زیادہ مقدس سمجھتے ہیں۔ ہمیں بطور انسان دوسرے کی اور اپنی حدود کا تعین کرنا نہیں سکھایا جاتا۔
کچھ کے سسرال میں اچانک سلنڈر پھٹ جاتا ہے۔ کوئی ڈپریشن سے مر جاتی ہے۔ کچھ کو نفسیاتی عارضہ لاحق ہو جاتے ہیں۔ کچھ صرف بظاہر زندہ رہتی ہیں۔
عورت کو برابری کے حقوق دینے کا مطلب صرف سرکاری ملازمت میں کوٹہ، معاشی مدد یا تشدد اور ہراسمنٹ کے خلاف قوانین بنانا نہیں۔ وہ برابر کی شہری تب بنے گی جب اُس کے گھر والے، رشتہ دار اور سماج اُس کے تئیں اپنا رویہ بدلے گا۔ اُسے برابری تب ملے گی جب ہم اپنی بیٹی سے یہ کہیں گے کہ ’تم اگلے گھر کی امانت نہیں، بلکہ تمہاری زندگی تمہاری امانت ہے۔ تم اپنی زندگی کی آپ مالک ہو۔ تم باشعور ہو، مضبوط ہو، تمہاری اپنی رائے ہے، تمہاری مرضی ہے، تمہارا فیصلہ ہے۔ اپنی زندگی کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرو اور ان کا بوجھ بھی خود اٹھانا سیکھو۔اگر کوئی رشتہ تکلیف دے تو پورے اعتماد اور گریس کے ساتھ اس رشتے کو ختم کرنا سیکھو‘۔
یہ بھی پڑھیں:طلاق اور علیحدگی کے بدلتے اصول: ’گرے ڈائیورس‘ کا بڑھتا ہوا رجحان
پاکستان میں ہر سال سینکڑوں عورتیں قتل ہوتی ہیں۔ کبھی غیرت کے نام پر، کبھی گھریلو تشدد سے ، کبھی حادثے کے نام پر، کبھی ’خودکشی نوٹ‘ لکھ کر۔ اس لیے کہ جو وہ چاہتی ہیں وہ بول نہیں سکتیں، یا بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
ثانیہ زہرہ کو مرنے کے بعد انصاف مل گیا،
مگر کئی گھروں میں پھنسی زندہ ثانیہ کو انصاف کیسے ملے گا؟ ۔۔۔ اب وقت ہے کہ ہم بیٹیوں کے لیے الفاظ بدلیں، نظریہ بدلیں، تربیت بدلیں۔ بیٹی کی پرورش اگلے گھر کے لیے نہیں، بلکہ ایک خود مختار، باوقار اور محفوظ زندگی کے لیے کرنی شروع کریں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ثانیہ زہرہ سماجی انصاف گھریلو تشدد گھریلو تشدد ثانیہ زہرہ اگلے گھر یہ بھی کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔