WE News:
2026-07-24@05:46:40 GMT

فتنہ الخوارج، تاریخی پس منظر اور آج کی مماثلت

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

پاکستان ایک بار پھر ایسے فتنہ گروہ کے نشانے پر ہے جو مساجد، بازاروں، اسکولوں اور سیکیورٹی اداروں پر حملے کر کے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مساجد کی حرمت پامال کرنے والے یہ عناصر مسلمان کہلانے کے قابل ہیں؟ اور یہ کون لوگ ہیں؟

یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں گونج رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب خودکش حملوں، بارودی دھماکوں، پولیس اور فوج پر حملوں اور اسکولوں کی تباہی نے ایک پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رکھا ہے۔

خوارج، تاریخی پس منظر اور آج کی مماثلت:

اسلامی تاریخ میں خوارج وہ گروہ تھا جو مسلمانوں کو معمولی اختلاف پر کافر قرار دیتا تھا مساجد میں قتل و غارت کو جائز سمجھتا تھا۔

حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو عبادت سمجھتا تھا ’صرف ہم مسلمان ہیں‘ کا دعویٰ کرتا تھا۔ ریاست کو کمزور کرنا ’جہاد‘ سمجھتا تھا۔ عورتوں، بچوں، عام مسلمانوں کا قتل روا رکھتا تھا، آج کے شدت پسند گروہ انہی خصوصیات کا عملی نمونہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ تلوار رکھتے تھے، یہ بارودی جیکٹیں اور بم رکھتے ہیں۔

سوال پیدہ ہوتا ہے کہ کیا یہ فتنہ ماضی یا دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی پایا جاتا رہا ہے؟ بلکل اس میں کوئی  دوسری رائے نہیں۔

خوارج جیسی فکری تحریک کے اثرات:

شام و عراق میں داعش

افغانستان میں داعش خراسان

الجزائر میں  GIA

نائجیریا میں بوکو حرام

صومالیہ میں الشباب

یہ سب گروہ ریاستوں کو چیلنج کرتے ہیں، مساجد و مدارس کو نشانہ بناتے ہیں۔ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، حکومتیں گرانے کو ’جہاد‘ سمجھتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کا مسئلہ کوئی انوکھا نہیں۔ یہ فتنۂ خوارج کا جدید عالمی ورژن ہے۔

پاکستان میں موجود شدت پسند عناصر، قبائلی پس منظر اور حقیقت؛

زیادہ تر ایسے گروہ قبائلی خطوں، خصوصاً پختون بیلٹ سے نکلتے ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پختون قوم نہیں، صرف مخصوص شدت پسند گروہ ذمہ دار ہیں۔

پختون قوم نے فوج، پولیس اور پاکستان کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ اصل مسئلہ وہ گروہ ہیں جو ریاست کو نہیں مانتے، آئین کو کفر کہتے ہیں،

ٹیکس اور ریاستی قوانین کو نہیں مانتے، فوج اور پولیس کو ’ہدف‘ سمجھتے ہیں، اسکولوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔

پختون قوم کے نام پر پختون بچوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہیں یہ گروہ اسلام، پاکستان اور پختون معاشرے تینوں کے دشمن ہیں۔

سوال: کیا مساجد کی حرمت پامال کرنے والے لوگ مسلمان کہلانے کے قابل ہیں؟ قرآن، حدیث، اور اکابر علما کی روشنی میں قرآن کا فیصلہ

مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ… فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا

’جو ایک بے گناہ کو قتل کرے وہ پوری انسانیت کا قاتل ہے۔ مسجد میں قتل کرنا گناہ نہیں، بدترین بغاوت ہے۔

حدیث کا فیصلہ

نبی ﷺ نے فرمایا: ’خوارج شر الخلق‘ (خوارج بدترین مخلوق ہیں)

اس سلسلے میں مفتی تقی عثمانی

’مسجد میں حملہ کرنے والا انسان ہو ہی نہیں سکتا، مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے‘۔ اسی طرح مولانا طارق جمیل کے مطابق ’ان کے اعمال اسلام کی توہین ہیں۔ یہ نہ مجاہد ہیں، نہ دین کے خادم، یہ صرف قاتل ہیں‘۔

اس سلسلے میں جامعہ الازہر (مصر) کا فتویٰ بڑا واضح ہے کہ ’جو گروہ نماز پڑھتے مسلمانوں کو مسجد میں مارے، وہ مسلمان نہیں رہتا‘۔

علامہ اقبال  نے ایسے ’مجاہد‘ کو انارکسٹ کہا کہ ’یہ قوم، دین، ریاست، کسی کے نہیں ہوتے‘۔

اس لیے جواب واضح ہے کہ مساجد کی حرمت پامال کرنے والے، مسلمانوں کو کافر کہنے والے، ریاست پر حملہ آور گروہ خوارج کے جدید وارث ہیں۔ ان کے اعمال اسلام دشمنی ہیں، اور ایسے لوگ ’مسلمان‘ کہلانے کے قابل نہیں۔

ان سے کیسے نمٹا جائے؟

1.

ریاستی، سماجی، قبائلی اور مذہبی لائحۂ عمل؛

سخت ترین ریاستی کارروائی قومی ایکشن پلان کا دوبارہ فعال ہونا۔ عسکری، انٹیلیجنس اور پولیس کا مشترکہ آپریشن فنانسنگ، پناہ گاہیں، سہولت کار، سب کا مکمل خاتمہ۔

قبائلی جرگہ نظام کا بیدار ہونا

پختون معاشرے میں جرگہ سب سے مضبوط نظام ہے۔

قبائلی مشران کا فتویٰ، اعلان، بائیکاٹ

دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں پر قبائلی سزائیں

علماء کی مشترکہ کھلی تردید

تمام مکاتب فکر کا مشترکہ فتویٰ ہے کہ خودکش حملہ حرام ہیں، مسجد پر حملہ کفر اور ریاست سے لڑنا بغاوت ہے۔

ڈجیٹل میڈیا پر بیانیہ سازی

نوجوانوں کو آن لائن برین واشنگ سے بچانا

شدت پسند گریبیج لاجک کا جواب دینا

متاثرہ علاقوں میں تعلیم

خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کو یقینی بنائیں، کیونکہ یہ گروہ ‘جہالت‘ پر زندہ رہتے ہیں۔

پولیس اور ایف سی کو جدید تربیت و جدید اسلحہ اہلِ قلم، صحافی اور دانشوروں کی ذمہ داری

بیانیے کو مضبوط بنانا، لوگو‌ں کو اصل چہرہ دکھانا۔

پاکستان آج جس فتنہ کا شکار ہے، وہ خوارج کی جدید شکل ہے۔

جو پختون قوم، اسلام اور پاکستان، تینوں کے دشمن ہیں۔

ان سے نمٹنے کیلئے:

طاقت علم بیانیہ قانون قبائلی دانش وغیرہ سب کو اکٹھا استعمال کرنا ہوگا۔ سب سے اہم بات کہ جو مسلمان مسجد میں مسلمانوں کو مارے، وہ نہ مجاہد ہے، نہ مسلمان، وہ صرف خوارج کا پیروکار ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مسلمانوں کو پختون قوم

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار