Islam Times:
2026-06-02@22:46:49 GMT

امریکی فوجی دمشق کے قریب تعینات کیے جائیں گے، جولانی حکومت

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

امریکی فوجی دمشق کے قریب تعینات کیے جائیں گے، جولانی حکومت

یروشلم پوسٹ نے اسے شام، اسرائیل اور پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دمشق اور تل ابیب کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام پر قابض محمد جولانی کی حکومت کی وزارتِ خارجہ کی تردید کے باوجود شامی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کا ایک دستہ دمشق کے نزدیک ایک فوجی اڈے میں تعینات ہونے والا ہے۔ المیادین ٹی وی کے مطابق جولانی کی حکومت کے کچھ عہدیداران نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں کا ایک گروہ دمشق کے قریب ایک اڈے میں مستقر ہو گا۔ ان عہدیداران کے مطابق امریکی فوجی اس سکیورٹی معاہدے کی نگرانی کریں گے جو اسرائیل اور شام کے درمیان طے پائے گا۔

چند ہفتے قبل صہیونی اور مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ دمشق کے اطراف کسی فضائی اڈے میں محدود تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد شام اور قابض صہیونی رجیم کے درمیان مجوزہ سکیورٹی معاہدے کی نگرانی ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب بعض شامی عسکری ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے، تاہم جولانی حکومت نے امریکی فوجیوں کی کسی بھی موجودگی یا معاہدے کی سختی سے تردید کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے لکھا تھا کہ واشنگٹن دمشق کے قریب ایک نامعلوم فوجی اڈے میں محدود فوجی موجودگی رکھنا چاہتا ہے، تاکہ شام اور اسرائیل کے مابین عدم تصادم (deconfliction) معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کی جا سکے۔ دو مغربی حکام اور ایک شامی دفاعی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوجی ’’نگران دستہ‘‘ (monitoring force) کے عنوان سے کام کریں گے، اور ان کے فرائض میں لاجسٹک مدد، ایندھن کی فراہمی اور انسانی امدادی کارروائیاں شامل ہوں گی۔

رائٹرز نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکی کارگو طیارے C-130 حال ہی میں اس اڈے پر اُترے ہیں تاکہ ’’رن وے‘‘ کا اگلے مراحل کے لیے جائزہ لیا جا سکے۔ دوسری جانب صہیونی میڈیا نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ یروشلم پوسٹ نے اسے شام، اسرائیل اور پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دمشق اور تل ابیب کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اخبار کے مطابق دمشق کے قریب امریکی فوجیوں کی محدود تعیناتی شام میں استحکام کو مضبوط کر سکتی ہے اور مقبوضہ فلسطینی سرحدوں کے خلاف کسی بھی ممکنہ خطرے کو محدود کر سکتی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ شامی حکومت فی الحال تل ابیب کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتی، لیکن واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والا سکیورٹی معاہدہ حتمی مرحلے کے قریب ہے اور ممکن ہے کہ 2025 کے اختتام تک اس پر دستخط ہو جائیں۔

تاہم ان دعوؤں کے مقابلے میں جولانی حکومت نے دوہرا موقف اختیار کیا ہے۔ دو شامی عسکری ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکی فوجیوں کی تعیناتی عمل میں آئی تو یہ مشترکہ شراکت کے تحت ہوگی اور دمشق اڈے پر اپنی مکمل خودمختاری برقرار رکھے گا، اس اقدام کو کسی بھی صورت قبضہ نہیں سمجھا جائے گا۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری بیانات میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے فوجی یا سکیورٹی معاہدے کی واضح تردید کی ہے اور سرکاری میڈیا نے مغربی رپورٹس کو من گھڑت اور سیاسی قرار دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی فوجیوں دمشق کے قریب امریکی فوجی کہ امریکی کے درمیان معاہدے کی فوجیوں کی کے مطابق اڈے میں کسی بھی

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان