Islam Times:
2026-07-24@00:57:27 GMT

امریکی فوجی دمشق کے قریب تعینات کیے جائیں گے، جولانی حکومت

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

امریکی فوجی دمشق کے قریب تعینات کیے جائیں گے، جولانی حکومت

یروشلم پوسٹ نے اسے شام، اسرائیل اور پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دمشق اور تل ابیب کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام پر قابض محمد جولانی کی حکومت کی وزارتِ خارجہ کی تردید کے باوجود شامی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کا ایک دستہ دمشق کے نزدیک ایک فوجی اڈے میں تعینات ہونے والا ہے۔ المیادین ٹی وی کے مطابق جولانی کی حکومت کے کچھ عہدیداران نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں کا ایک گروہ دمشق کے قریب ایک اڈے میں مستقر ہو گا۔ ان عہدیداران کے مطابق امریکی فوجی اس سکیورٹی معاہدے کی نگرانی کریں گے جو اسرائیل اور شام کے درمیان طے پائے گا۔

چند ہفتے قبل صہیونی اور مغربی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ دمشق کے اطراف کسی فضائی اڈے میں محدود تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد شام اور قابض صہیونی رجیم کے درمیان مجوزہ سکیورٹی معاہدے کی نگرانی ہے۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب بعض شامی عسکری ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے، تاہم جولانی حکومت نے امریکی فوجیوں کی کسی بھی موجودگی یا معاہدے کی سختی سے تردید کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے لکھا تھا کہ واشنگٹن دمشق کے قریب ایک نامعلوم فوجی اڈے میں محدود فوجی موجودگی رکھنا چاہتا ہے، تاکہ شام اور اسرائیل کے مابین عدم تصادم (deconfliction) معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کی جا سکے۔ دو مغربی حکام اور ایک شامی دفاعی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی فوجی ’’نگران دستہ‘‘ (monitoring force) کے عنوان سے کام کریں گے، اور ان کے فرائض میں لاجسٹک مدد، ایندھن کی فراہمی اور انسانی امدادی کارروائیاں شامل ہوں گی۔

رائٹرز نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکی کارگو طیارے C-130 حال ہی میں اس اڈے پر اُترے ہیں تاکہ ’’رن وے‘‘ کا اگلے مراحل کے لیے جائزہ لیا جا سکے۔ دوسری جانب صہیونی میڈیا نے اس پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ یروشلم پوسٹ نے اسے شام، اسرائیل اور پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دمشق اور تل ابیب کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اخبار کے مطابق دمشق کے قریب امریکی فوجیوں کی محدود تعیناتی شام میں استحکام کو مضبوط کر سکتی ہے اور مقبوضہ فلسطینی سرحدوں کے خلاف کسی بھی ممکنہ خطرے کو محدود کر سکتی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ شامی حکومت فی الحال تل ابیب کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتی، لیکن واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والا سکیورٹی معاہدہ حتمی مرحلے کے قریب ہے اور ممکن ہے کہ 2025 کے اختتام تک اس پر دستخط ہو جائیں۔

تاہم ان دعوؤں کے مقابلے میں جولانی حکومت نے دوہرا موقف اختیار کیا ہے۔ دو شامی عسکری ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکی فوجیوں کی تعیناتی عمل میں آئی تو یہ مشترکہ شراکت کے تحت ہوگی اور دمشق اڈے پر اپنی مکمل خودمختاری برقرار رکھے گا، اس اقدام کو کسی بھی صورت قبضہ نہیں سمجھا جائے گا۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری بیانات میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے فوجی یا سکیورٹی معاہدے کی واضح تردید کی ہے اور سرکاری میڈیا نے مغربی رپورٹس کو من گھڑت اور سیاسی قرار دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکی فوجیوں دمشق کے قریب امریکی فوجی کہ امریکی کے درمیان معاہدے کی فوجیوں کی کے مطابق اڈے میں کسی بھی

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی