پاک امریکی تعلقات اختیاری نہیں بلکہ دنیا کیلئے بھی ناگزیر ہیں، پاکستانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لئے اہم اور نتیجہ خیز رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے امریکہ کے معروف تعلیمی ادارے بوسٹن یونیورسٹی کے فریڈرک ایس پردی اسکول آف گلوبل اسٹڈیز میں پاک امریکہ کثیر الجہتی تعلقات کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے لئے اہم اور نتیجہ خیز رہے ہیں۔ دنیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان اچھے تعلقات اختیاری نہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔
بوسٹن یونیورسٹی کے سینٹر فار ایشین اسٹڈیز اور اسکول آف گلوبل اسٹڈیز کے زیر اہتمام ہونے والے اس مکالمے میں طلباء، فیکلٹی، سفارت کاروں اور عالمی امور کے ماہرین شریک تھے۔
رضوان سعید شیخ نے کہا پاک امریکہ تعلقات کی معاشی جہت اولین ترجیح اور پیش نظر ہے۔ عالمی سطح پر مقابلے کی بجائے تعاون کا فروغ بہتر مستقبل کا ضامن ہو گا۔
اسکول کے ڈین ایمریٹس پروفیسر عادل نجم کے ساتھ پاک امریکا تعلقات کے تاریخی پس منظر، حالیہ ادوار اور مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ دنیا کے دو بڑے ممالک کے مابین اچھے تعلقات اختیاری نہیں ہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔
پاکستان کی اہم جغرافیائی و سیاسی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے پاکستان کو تذویراتی اعتبار سے دنیا کا اہم مقام قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عمومی طور پاک امریکا تعلقات کو سیکیورٹی کے تنا ظر میں دیکھا جاتا رہا ہے ۔ موجودہ دور میں دونوں ممالک کی توجہ اقتصادی تعلقات پر مبنی تذویراتی شراکت داری کے فروغ پر مبنی ہے۔
شرکا کے ایک سوال کے جواب میں سفیر پاکستان نے ملک کے جمہوری سفر پر بات کرتے ہوئے مثبت سمت میں جاری ارتقائی عمل کے اہم نکات کو اُجاگر کیا۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے عالمی سطح پر باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رضوان سعید شیخ نے سفیر پاکستان دنیا کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔