Express News:
2026-07-24@01:01:38 GMT

برسوں بعد میرا اور سعود کے اسکینڈل کا راز فاش

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

لالی ووڈ کے بڑے پردے کی جوڑی میرا اور سعود کا اسکینڈل سامنے آنے پر مداحوں حیران رہ گئے۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کی سینئر اسٹار سنگیتا نے حال ہی میں ایک پروگرام میں مداحوں کو حیران کردینے والے انکشافات کیے۔ سنگیتا نہ صرف کامیاب اداکارہ رہ چکی ہیں بلکہ وہ ہدایتکارہ اور پروڈیوسر کے طور پر بھی اپنا لوہا منوا چکی ہیں اور آج بھی فلمیں بنانے کی لگن رکھتی ہیں۔

پروگرام کے دوران سنگیتا نے اپنی فلمی زندگی کے دلچسپ قصے سناتے ہوئے ایک راز فاش کیا، جو کئی برسوں سے میڈیا سے دور تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سعود اور میرا کے درمیان ایک وقت میں تعلق تھا، اور یہ واقعہ ان کی اپنی فلم کی شوٹنگ کے دوران پیش آیا۔

سنگیتا کہتی ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے سخت مزاج ہوتی تھیں، اور اسی دوران انہیں پتا چلا کہ سعود شوٹنگ پر نہیں آیا۔ جب وہ سعود کو لینے گئیں تو دیکھا کہ وہ میرا کے ساتھ ہیں۔ میرا نے کپڑوں کے ایک بنڈل کے نیچے چھپنے کی کوشش کی اور سعود کو کسی اور اداکارہ کے ساتھ کام کرنے سے روکنے کی پوری کوشش کی۔

سنگیتا نے پھر میرا کو تھپڑ مارا اور سعود کو شوٹنگ کے لیے لے آئیں تاکہ فلم مکمل ہوسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور سعود

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم