حماس نے ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس کردی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس نے ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ سے ملنے والی یرغمالی کی لاش پہلے ریڈ کراس کے حوالے کی گئی، جس کے بعد اسے باضابطہ طور پر اسرائیلی حکام تک پہنچا دیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ریڈ کراس نے 73 سالہ اسرائیلی شہری **Meny Godard** کی لاش اسرائیلی فوج کے سپرد کی، جو کچھ عرصہ قبل غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد میں شامل تھے۔
یاد رہے کہ غزہ میں جاری امن معاہدے کے تحت حماس اس سے پہلے بھی تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر چکا ہے، جب کہ اس کے علاوہ متعدد یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کے بدلے میں اسرائیل نے مختلف مراحل میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جو اس معاہدے کا اہم حصہ تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تازہ پیش رفت سے امید کی جا رہی ہے کہ فریقین کے درمیان جاری اس معاہداتی عمل میں مزید پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم زمینی صورتحال اب بھی تناؤ اور غیر یقینی کا شکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی لاش
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔