پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، عمران خان کی بہنوں پر تشدد کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اجلاس میں آڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعہ کو شرمناک اور ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا، اجلاس میں ملک میں سیاسی ابتری، غیر آئینی 27ویں ترمیم اور دیگر نہایت سنگین امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی غیر معمولی اجلاس خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر جنید اکبر خان، صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور اراکین صوبائی اسمبلی نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں آڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعہ کو شرمناک اور ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا، اجلاس میں ملک میں سیاسی ابتری، غیر آئینی 27ویں ترمیم اور دیگر نہایت سنگین امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بانی چیرمین کی تینوں بہنوں، صوبائی وزیر مینا خان، رکنِ قومی اسمبلی شاہد خٹک اور رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالسلام پر ہونے والے تشدد اور رویے کی شدید ترین مزمت کی گئی۔
یہ عمل مکمل طور پر سیاسی انتقام، آئینی انحراف اور ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کی کھلی مثال ہے، جمعہ کے روز خیبر پختونخوا کے ہر حلقے میں 27ویں آئینی ترمیم، وفاقی اور پنجاب حکومت کے غیر آئینی، انتقامی اور آمرانہ رویے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق صوبائی حکومت، وزراء یا اراکینِ اسمبلی کی تذلیل کسی بھی سطح پر، کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی، ایسے اقدامات جاری رہے تو صوبہ مناسب آئینی و سیاسی ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، وفاقی اور پنجاب حکومت کے مسلسل متعصبانہ، پرتشدد، اشتعال انگیز اور غیر آئینی اقدامات کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کر دیا گیا۔
بانی چیئرمین کی بہنیں مکمل طور پر غیر سیاسی ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور جانبدارانہ سلوک انتہائی شرمناک، قابلِ نفرت اور ناقابلِ معافی ہے۔ صوبائی حکومت، وزراء، پارلیمنٹیرینز اور خیبر پختونخوا کی عوام اپنے قائد ان کی بہنوں اور اپنے تمام منتخب نمائندوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہیں۔ دوسری جانب ترجمان وزیر اعلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایبٹ اباد جلسے کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے،وزیراعلیٰ کا پیغام واضح تھا، الیکشن میں مداخلت پر سخت “قانونی کارروائی” ہوگی۔ ترجمان نے کہا کہ انتخابات میں مداخلت جرم ہے، وزیراعلیٰ نے اسی قانونی حقیقت کی نشاندہی کی، الیکشن کے دوران کسی بھی غیرقانونی کارروائی کے لیے فوری اور مناسب قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی شخص کو دھمکی نہیں دی، بات محض قانون کے نفاذ کی تھی، ایماندار افسران مکمل تحفظ میں ہیں، صرف قانون توڑنے والوں کو جواب دینا ہوگا، وزیراعلیٰ کے بیان کو غلط رنگ دینا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، صوبائی حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیرجانبدارانہ ضمنی انتخابات یقینی بنائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اجلاس میں
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔