اسلام آباد (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ پی ایس ایل کی دو نئی فرنچائز ٹیموں کے نام حیدرآباد، راولپنڈی، فیصل آباد، گلگت، مظفرآباد اور سیالکوٹ میں سے منتخب کیے جائیں گے۔ یہ فہرست اس وقت حتمی کی گئی جب نئے ٹیموں کی ویلیوایشن رپورٹس موصول ہوئیں۔

پی سی بی کے مطابق نئی فرنچائزز کے ملکیتی حقوق کی فروخت کے لیے ٹینڈر کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ موجودہ پی ایس ایل فرنچائزز اور دیگر کمرشل اثاثوں کی آزادانہ ویلیوایشن مکمل کرلی گئی ہے۔

بورڈ نے بتایا کہ آئندہ دس برس کے لیے نئی فیسوں کے تحت فرنچائز ری نیوئل کی پیشکش تمام مطابقت رکھنے والی ٹیموں کو بھیج دی گئی ہے، جنہیں مقررہ مدت میں جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پی سی بی نے مزید کہا کہ مکمل شفافیت یقینی بنانے کے لیے فرنچائز مالکان اور آزاد ویلیوایٹر EY MENA کے درمیان اجتماعی اور انفرادی اجلاس بھی ترتیب دیے گئے ہیں، تاکہ ٹیمیں ویلیوایشن کے طریقہ کار کو سمجھ سکیں اور اپنے سوالات اٹھا سکیں۔

یہ پیشرفت آئندہ ایڈیشن کے لیے پی ایس ایل میں توسیع کے اہم مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل