خیبر پختونخوامیں سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں؛ فتنہ الخوارج کے 23دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ آپریشن کے دوران بھارت کی پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 23 دہشت گردوں کا ہلاک کردیا۔
انٹرسروسز پبلک ریلیشنز ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق 16-17 نومبر 2025 کو خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر باجوڑ ضلع میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 11 خوارج، بشمول خوارجی سرغنہ سجاد عرف ابوذر ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن بنوں ضلع میں کیا گیا، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مزید 12 خوارج کو کامیابی سے ٹھکانے لگا دیا۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق علاقے میں موجود کسی بھی دیگر بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کی تلاش اور خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے “عزمِ استحکام” کے وژن (جسے نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی نے منظور کیا) کے تحت غیر ملکی امداد یافتہ اور سرپرستی شدہ دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے مٹانے کے لیے اپنی انسدادِ دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھیں گے۔
دریں اثنا خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والا ایک دہشتگرد بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے بارودی مواد نصب کرتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعہ خوارج کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے، جو سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مسلسل اور مؤثر دباؤ کے باعث اب آسان اہداف کے خلاف بزدلانہ کارروائیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق فورسز نے
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔