صوبہ سندھ میں 14 انسدادِ دہشت گردی کورٹس ختم، خصوصی عدالتیں قائم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : سندھ کابینہ نے 14 انسدادِ دہشت گردی عدالتوں ختم کرکے خصوصی عدالتیں قرار دینے کی منظوری دے دی۔
میڈیاذرائع کے مطابق خصوصی عدالتیں سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2024 کے تحت قائم کی جائیں گی، کراچی میں کم مقدمات کے باعث 13 اور حیدرآباد میں ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔تبدیل کی گئی عدالتیں منشیات سے متعلق مقدمات کے تیز تر فیصلوں کے لیے استعمال ہوں گی،نئی خصوصی عدالتیں کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں قائم ہوں گی،باقی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کی ازسرِنو تنظیم کی جائے گی۔
کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا عدالتوں کی تنظیمِ نو کا مقصد زیرِ التوا مقدمات کو موثر طریقے سے نمٹانا ہے،تجویز انسدادِ دہشت گردی (سندھ ترمیمی) ایکٹ 2025 کی دفعہ 13 کے تحت پیش کی گئی،قانون صوبائی حکومت کو عدالتوں کی تعداد بڑھانے، گھٹانے یا ختم کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
دوسری جانب سندھ کابینہ نے پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے لیے ’سندھ سینٹر آف ایکسی لینس‘ قائم کرنے کی منظوری دے دی، سینٹر محکمہ داخلہ کے تحت قائم کیا جائے گا،فیصلہ ’سندھ سینٹر آف ایکسی لینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ایکٹ 2025‘ کے نفاذ کے بعد کیا گیا۔
نئے قانون کا مقصد انتہاپسندی، دہشت گردی، عسکریت پسندی اور تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام ہے،خصوصی سینٹر تحقیقی سرگرمیوں، ہم آہنگی اور انسدادِ انتہاپسندی اقدامات کے نفاذ کا مرکزی ادارہ ہوگا،صوبے بھر میں پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف پالیسی سازی اور پروگراموں کی رہنمائی سینٹر کے ذریعے کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خصوصی عدالتیں
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔