نظام بدلو اجتماع ملک کی سیاست کا رخ اور 25 کروڑ عوام کو بیدار کرے گا، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام نظام بدلو میں شرکت کے لیے ملک بھر سے قافلوں کی روانگی کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے جبکہ جمعرات 20 نومبر کو کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد ٹرینوں، بسوں اور دیگر سواریوں کے ذریعے لاہور روانہ ہوئے، کینٹ اسٹیشن سے ایک خصوصی ٹرین بھی روانہ ہوئی جسے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے الوداع کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ 21، 22 اور 23 نومبر کو مینار پاکستان پر ہونے والا یہ اجتماع نہ صرف جماعت اسلامی کی تاریخ کا عظیم اجتماع ہوگا بلکہ ملکی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگا، ”بدل دو نظام“ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ اس جدوجہد کا نقطۂ آغاز ہے جو ملک میں موجود فرسودہ، جاگیردارانہ اور استحصالی ڈھانچے کے خاتمے کی طرف بڑھے گی، اس اجتماع کے ذریعے نوجوانوں اور 25 کروڑ عوام کو امید، حوصلہ اور ایک نئی سمت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے گرد پوری سیاست گھوم رہی ہے، عدالتوں کو دباؤ میں لیا جارہا ہے اور عوام کے مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں، قوم کی بھاری اکثریت مہنگائی، بے روزگاری اور بدترین معاشی حالات کا سامنا کر رہی ہے، ملک میں 44 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ لاکھوں نوجوان نوکریوں کے لیے دھکے کھا رہے ہیں، فیکٹریوں میں مزدور اپنے حقوق سے محروم ہیں، خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں اور شہریوں کو بجلی، پانی، بہتر ٹرانسپورٹ اور صاف سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔
منعم ظفر خان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 78 لاکھ اور ملک بھر میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے ایسے ہیں جنہیں اسکول جانا چاہیے تھا مگر حکمرانوں کی غفلت کے باعث وہ تعلیم سے محروم ہیں حالانکہ آئین ریاست کو ہر شہری کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جماعت اسلامی کا اجتماع عام ملک کو اس کے اصل مقصد سے جوڑنے کی جدوجہد کا حصہ ہے، 23 مارچ 1940 کو اسی مقام پر جس عزم کا اظہار ہوا تھا، آج اس کی تجدید وقت کی ضرورت ہے۔ اجتماع میں نوجوانوں، خواتین، معیشت اور سیاست کے موضوعات پر خصوصی سیشن ہوں گے جبکہ 40 سے زائد ممالک سے اسلامی تحریکوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کریں گے، اجتماع کے دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن آئندہ کا لائحہ عمل پیش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کہا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔