کیا ہم ایک اور وکلا تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ 2007 کی وکلا تحریک اور آج کے حالات میں کیا فرق ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا کا اِختلافِ رائے، کمزور احتجاج، عدلیہ اور وکلا کے بارے میں معاشرے کے اندر عمومی حمایت میں کمی، میڈیا کے اندر اختلافِ رائے یہ کچھ ایسے فیصلہ کُن اِشاریے ہیں جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ 2007 والی وکلا تحریک شاید ایک بار پھر دہرائی نہیں جاسکتی۔
2007 کی وکلا تحریک کو نہ صرف ساری وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کی حمایت حاصل رہی بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی اُس احتجاج کو سپورٹ کیا گیا لیکن اِس وقت سال 2025 میں ویسی صورتحال نظر نہیں آتی بلکہ مختلف معاشرتی گروہوں کے اندر شدید ترین اختلاف رائے نظر آتا ہے۔
گوکہ پاکستان تحریک اِنصاف اور تحریکِ تحفظ آئین پاکستان نے مزاحمت کا اعلان کیا ہے لیکن یہ مزاحمت اُسی وقت فیصلہ کُن ثابت ہو سکتی ہے جب اِسے مکمل عوامی تائید و حمایت میّسر ہو لیکن فی الوقت ایسا نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: سینیٹ: پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور
گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظوری اور صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد 27ویں آئینی ترمیم باقاعدہ آئین کا حصّہ بن گئی ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے 2 سینئر جج صاحبان، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر مِن اللہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے اپنے مناصب سے استعفے دے دیے جبکہ وزیراعظم کے مُشیر برائے سیاسی اُمور رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز مستعفی ہونے والے ججز کو سیاسی جج قرار دے دیا۔
سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان اشتر اوصاف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اِس مُلک میں ایک وزیراعظم کو پھانسی لگا دیا گیا، ایک وزیراعظم کو توہینِ عدالت پر گھر بھیج دیا گیا، ایک اور وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا، تو اِن سب باتوں سے مُلک میں کوئی آئینی بحران نہیں آیا تو اب بھی نہیں آئے گا۔
آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس یحیٰی آفریدی نے فُل کورٹ اِجلاس طلب کیا ہے جس میں ممکنہ طور پر نئی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کی بعد ملک بھر میں مختلف بار ایسوسی ایشنز نے احتجاج کی کال دی اور اُس ترمیم کے خلاف مزاحمت کرنے کا عندیہ دیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن نے 2 روز قبل ایک کنونشن کا انعقاد کیا جس میں سٹی بار ایسوسی ایشنز نے شرکت کی اور حالیہ ترمیم کے خلاف تحریک کا عندیہ دیا گیا اِسی طرح لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی موجودہ ترمیم کو چیلینج کرنے کا عِندیہ دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اِس بار 2007 طرز کی ایک فیصلہ کُن تحریک چل پائے گی یا نہیں؟
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کی لوکل باڈیز کے حوالے سے مجوزہ ترمیم پر مزید مشاورت کی جائےگی، وزیراعظم
26ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا کیا بنا؟گزشتہ برس اکتوبر میں 26ویں آئینی ترمیم منظور ہوئی تو مختلف سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں کی جانب سے اِسے آئین پر حملہ قرار دیا گیا اور پھر 10 فروری کو وکلا تنظیموں کی جانب سے بڑے احتجاج کی کال دی گئی۔
لیکن وکلا کے اندر تقسیم کی وجہ سے یہ احتجاج مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ پاکستان بارکونسل، سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن، خیبر پختونخوا بار کونسل، پنجاب بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک مشترکہ بیان میں احتجاج کی کال کو مسترد کرتے ہوئے اُس کی مذمت کی۔
اور کہا کہ ہم 26ویں آئینی ترمیم اور اُس کے نتیجے میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے نئے جج صاحبان کی تقرری کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
2007 وکلا تحریک کے بڑے بڑے ناموں جیسے کہ علی احمد کُرد، حامد خان اور کئی دیگر سینئر وکلا گزشتہ برس سپریم کورٹ میں موجود تھے جب 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کا عِندیہ دیا گیا لیکن یہ تحریک عملاً ناکامی کا شِکار ہوئی۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2025 کی منظوری
2007 اور 2025 وکلا تحریک کے لیے حالات کس طرح سے مختلف ہیں؟2007میں وکلا تنظیموں کے اندر اِختلاف رائے نہیں تھا۔ 2007 کی وکلا تحریک راقم الحروف نے کور کی۔ اُس تحریک کی کامیابی کی بنیادی وجہ تمام وکلا تنظیموں کا ایک مقصد پر جمع ہونا اور فکری اتحاد تھا۔
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور اُس وقت کے جج صاحبان کو جب اُس وقت کے فوجی صدر نے اپنے عہدوں سے معزول کیا جس حُکم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے جسٹس افتخار چوہدری سپریم کورٹ کی طرف بڑھے تو پولیس والوں نے اُنہیں بالوں سے پکڑ لیا۔
وہ ایک تصویر ساری وکلا تحریک کے لیے عمل انگیز ثابت ہوئی۔ اُس وقت تمام وکلا تنظیمیں سِول سوسائٹی اور عام پبلک ججوں کی بحالی کے حق میں یکسو اور متحد تھے۔ بنیادی طور پر وکلا تنظیموں کے اندر اِس مقصد کی خاطر کوئی بڑا اِختلافِ رائے نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت نے 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر دیے، بل آئین کا حصہ بن گیا
موجودہ صورتحال میں وکلا تنظیموں کے اندر بہت سا اختلاف رائے موجود ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجود صدر ہارون الرّشید نے چند روز قبل وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت وقت کی ضرورت ہے تاکہ عام سائلین کے مقدمات تاخیر کا شِکار نہ ہوں۔
پرانے نظام کے اندر عدالتیں زیادہ تر رِٹ پٹیشنز سُنتی رہتی تھیں اور عام آدمی کے مقدمات تاخیر کا شکار ہوتے تھے۔ اب آئینی عدالت کے قیام کے بعد تمام آئینی نوعیت کے مقدمات کی سماعت الگ ہو جائے گی۔
جس سے اِنصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی۔ اِسی طرح سے کئی دیگر اہم وکلا تنظیمیں 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ہیں اور وکلا کے اندر اِتّفاقِ رائے موجود نہیں۔
2007 میں حکومتی ردّعمل بڑا سخت تھا2007 میں وکلا تحریک کو ناکام بنانے کے لیے اُس وقت کی حکومت نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ وکلا رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، اُنہیں زدوکوب کیا گیا۔ اور کئی وکلا کو مہینوں گرفتار اور لاپتا بھی رکھا گیا۔
مزید پڑھیں: آرٹیکل 243 کی ترمیم صرف افواج کے کمانڈ سسٹم تک محدود ہے، رانا ثنا اللہ
امسال فروری میں وکلا نے احتجاج کیا تو ایک تو احتجاج میں اُتنی شدّت نہیں تھی اور دوسری طرف حکومت نے بھی اُتنی سختی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
عدلیہ کا امیج اور عوامی حمایتپاکستان کے کسی دور میں بھی عدلیہ کا امیج زیادہ اچھا نہیں رہا، لیکن 2007 میں عدلیہ ایک مظلوم فریق کے طور پر اُبھری تو اُسے بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ سول سوسائٹی اور عام لوگ جوق در جوق وکلا کے جلسوں میں شریک ہوتے رہے۔
لیکن وکلا تحریک کی کامیابی کے بعد جس طرح سے وکلا نے پرتشدد واقعات میں ملوّث ہو کر اور اعلیٰ عدلیہ نے متنازع فیصلوں کے ذریعے سے عوامی سطح اپنی حمایت کھو دی ہے۔ اِس لیے اِس وقت وکلا کی کال پر عام لوگوں کا باہر نکلنا قرینِ قیاس نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟
میڈیا میں تقسیم2007 میں زیادہ تر پاکستانی میڈیا وکلا تحریک کی کامیابی کے لیے یکسو تھا۔ وکلا کے مطالبات کو جائز قرار دیا جاتا اور وکلا احتجاجات کو بھرپور کوریج دی جاتی۔ اس وقت میڈیا بھی تقسیم ہے اور اگر وکلا تحریک چلائی جاتی ہے تو میڈیا کے بعض حصوں سے اُسے حمایت کے بجائے مزاحمت مل سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27وین آئینی ترمیم پاکستان بار کونسل صدر مشرف علی احمد کرد وکلا تحریک 2007.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27وین ا ئینی ترمیم پاکستان بار کونسل علی احمد کرد وکلا تحریک 2007 کورٹ بار ایسوسی ایشن 26ویں ا ئینی ترمیم کے ترمیم کے خلاف وکلا تنظیموں سپریم کورٹ مزید پڑھیں وکلا تحریک احتجاج کی کے اندر ا تحریک کی میں وکلا اور وکلا دیا گیا وکلا کے کی کال کے لیے ا نہیں نہیں ا
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔