وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز کی تقرری، 3 نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز کی تقرری، 3 نے حلف اٹھا لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
پہلے مرحے میں وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے حلف اٹھایا، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس باقی نجفی اور جسٹس عامرفاروق نے حلف لیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے ججز نے حلف لیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر بھی حلف برداری کی تقریب میں موجود تھے۔
اس سے قبل وزارت قانون نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے 6 ججز ہوں گے، جس میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقرنجفی، جسٹس کےکے آغا اور بلوچستان سے جسٹس روزی خان آئینی عدالت کے جج ہوں گے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور ہائیکورٹ سے جسٹس ارشد حسین شاہ آئینی عدالت کےجج ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری، مغربی کنارے میں 2 بچے شہید، غزہ میں اجتماعی قبر سے 51 لاشیں برآمد اسلام آباد کچہری خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشتگرد سیل کے 4 ارکان گرفتار ستائیسویں آئینی ترمیم کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ، صدارتی آرڈر جاری پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور وفاقی کابینہ نے گوادر عمان فیری سروس کی منظوری دےدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت کے حلف اٹھا لیا نے حلف
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔