data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن: سمندر کے پوشیدہ رازوں کی تلاش صدیوں سے انسان کو اپنی جانب کھینچتی رہی ہے اور اس شعبے سے وابستہ سائنسدان ہمیشہ نت نئی کھوج کی راہ میں رہتے ہیں۔

اسی سلسلے میں برطانیہ کی معروف کمپنی ’ڈیپ‘ ایک دلچسپ سائنسی جستجو کو ایک بالکل نئی سمت دینے جا رہی ہے۔ کمپنی نے دنیا کی پہلی ایسی زیرِ آب انسانی بیس قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جہاں انسان طویل عرصے تک رہ کر تحقیق کر سکیں گے۔

یہ بیس ’’وینگارڈ‘‘ کے نام سے متعارف کروائی گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف سمندری تحقیق میں انقلاب برپا کرے گا بلکہ انسان کو زیرِ آب دنیا کو سمجھنے کے نئے امکانات بھی فراہم کرے گا۔

کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینگارڈ ایک ایسا خودمختار اسٹیشن ہوگا جو سمندر کی تہہ میں نصب کیا جائے گا اور اس کی ساخت اس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ اس میں 4 افراد پر مشتمل عملہ ایک ہفتے یا اس سے زیادہ عرصہ آرام سے رہ سکے۔

جدید انجینئرنگ سے تیار کردہ یہ ڈھانچہ ایسے تمام آلات سے لیس ہوگا جو گہرے پانی میں تحقیق، رہائش اور مشاہدے کے لیے ضروری ہیں۔ وینگارڈ کے اندر خصوصی کیبن، لیبارٹریز، مواصلاتی نظام اور وہ تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی جو کسی زمینی تحقیقی مرکز میں ہوتی ہیں، یوں محققین بغیر سطح پر واپس آئے طویل عرصے تک سمندر کے ماحول کا مشاہدہ کر سکیں گے۔

ڈیپ کمپنی نے اس منصوبے کو صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے استعمال کو مستقبل کے خلائی مشنز تک بھی وسیع کر دیا ہے۔

کمپنی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ آب مستقل رہائش کا ماحول خلا میں درپیش مشکلات سے ملتا جلتا ہے، اس لیے یہ بیس مستقبل کے خلانوردوں کی تربیت کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ مشنز جن میں طویل قیام ضروری ہو، ان کے لیے زیرِ آب ماحول میں رہنا ایک عملی مشق ثابت ہو سکتا ہے۔

اس بیس کا سب سے اہم پہلو سمندر کے اُس حصے کی مسلسل نگرانی ہے جہاں ہزاروں اقسام کے جاندار اور حیاتیاتی نظام موجود ہیں لیکن انسان اب تک ان تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکے۔

انہوں نے بتایا کہ کورل ریفس کا مطالعہ اس منصوبے کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ یہ ریفس نہ صرف سمندری ماحول کا اہم حصہ ہیں بلکہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے عناصر میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

وینگارڈ پروجیکٹ کے ذریعے تحقیق کار روزانہ کی بنیاد پر ان ریفس کے رنگ، ساخت، افزائش اور بیماریوں کا مشاہدہ کر سکیں گے، جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا کیونکہ اوپر سطح تک بار بار آنا تحقیق کے تسلسل کو متاثر کرتا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے منصوبے ہمیں سمندر کے اُن حصوں تک لے جائیں گے جنہیں آج بھی ’’نامعلوم دنیا‘‘ کہا جاتا ہے۔ جیسے جیسے انسان زیرِ آب دنیا کی حقیقتوں کو قریب سے سمجھے گا، نہ صرف سمندری حیات کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئیں گے بلکہ ماحولیات، زمین کے ارتقا اور موسمیاتی نظام پر بھی گہرا علم حاصل ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سمندر کے

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار