پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے ائیر انڈیا کو 4 ہزار کروڑ روپے کا بھاری نقصان پہنچا دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
نئی دہلی: بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث اسے 4 ہزار کروڑ بھارتی روپے سے زائد کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جب کہ طویل فضائی راستوں کے سبب اخراجات میں اضافہ اور پروازوں میں تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایئر انڈیا نے نقصان کے ازالے کے لیے باضابطہ طور پر بھارتی حکومت سے 4 ہزار کروڑ روپے کی مالی مدد طلب کر لی ہے۔
کمپنی نے حکومت سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اسے چین کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دلائی جائے تاکہ اضافی سفر اور ایندھن کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ “آپریشن سندور” کے دوران پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کے بعد بھارتی ایئرلائنز کو متبادل طویل راستوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف آپریٹنگ کاسٹ بڑھ گئی ہے بلکہ پروازوں کے شیڈول بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مسافروں کو تاخیر اور طویل سفر سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے نقصانات کے باوجود بھارت کی افغانستان کے ساتھ فضائی تجارت پر انحصار قابلِ فہم نہیں رہا، کیونکہ طویل روٹس نے لاگت میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے اپریل میں بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے بعد ایئر انڈیا سمیت تمام بھارتی ایئرلائنز کو اوور فلائٹ کی اجازت نہ ملنے کے باعث متبادل روٹس استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔