data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

استنبول: اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی سینئر اہلکار سٹیلیانا نیڈرا نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ترقی خطرے میں ہے کیونکہ مالی امداد میں کمی اور پچھلے چند دہائیوں کی ترقی سست ہو رہی ہے۔

یواین اہلکار نے استنبول میں منعقدہ استنبول ڈویلپمنٹ ڈائیلاگز 2025 کے دوسرے اور آخری دن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ صدی کے ترقیاتی ماڈل اب پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا، خاص طور پر مالی وسائل میں تیزی سے کمی کی وجہ سے۔ انہوں نے OECD کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 کے آخر تک عالمی ترقیاتی فنڈنگ میں 17 فیصد کمی متوقع ہے، کئی بڑے فنڈرز اپنی مالی امداد دوسری ترجیحات پر منتقل کر رہے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ترقیاتی حل مؤثر نہیں، اس لیے نئے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

نیڈرا نے خبردار کیا کہ یہ کمی عالمی سطح پر مثبت ترقی کی دہائیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ، امریکا اور یورپی ممالک سے امداد میں کمی کی وجہ سے 2030 تک ترقی پذیر ممالک میں 22.

6 ملین سے زیادہ افراد کی موت، جن میں پانچ سال سے کم عمر 5.4 ملین بچے شامل ہیں، روکی جا سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ UNDP کی 2025 کی عالمی انسانی ترقی رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ عالمی ترقی سست ہو رہی ہے اور انسانی ترقی رک یا محدود ہو رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ترقیاتی عمل کے لیے سب سے بڑے چیلنج ہیں، کیونکہ بہت سی کمیونٹیز ترقی کے فوائد سے محروم ہیں، نوکریاں کم ہو رہی ہیں، اور پانی کی کمی اور شدید موسمی حالات کا سامنا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی ترقی ہو رہی رہی ہے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی