سندھ بلڈنگ، فیڈرل بی ایریا کے رہائشی علاقے کمرشل ہونے لگے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
فیڈرل بی ایریا بلاک 6میں رہائشی پلاٹ پر بینک کی تعمیر ،سپریم کورٹ کے احکامات کا مذاق
رہائشی پلاٹ نمبر C-3 پر انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کی ملی بھگت ثابت ، علاقہ مکین برہم ہو گئے
وسطی کے معروف علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 6 کے رہائشی پلاٹ نمبر C-3پر بینک کی برانچ کی برق رفتار تعمیر نے متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کی غفلت نہیں بلکہ مبینہ ملی بھگت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود یہ تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو بے بس ہو چکے ہیں یا پھر دانستہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری بارہا حکم دے چکی ہے کہ رہائشی علاقوں کو کسی صورت کمرشلائز نہ کیا جائے ،دکانیں بینک آفسز اور ہر قسم کی کمرشل سرگرمی سختی سے ممنوع ہے ،غیر قانونی تعمیرات اور خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی کی جائے ،خلاف ورزی کرنے والی عمارتیں سیل کی جائیں،مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے ۔ رہائشی علاقے کے وسط میں بینک کی برانچ کا کھلم کھلا قیام اس بات کی واضح نشانی ہے کہ عدالتی حکم اب صرف پڑھنے کی چیز رہ گیا ہے ۔ عمارت کے اندر تیزی سے جاری کام، سامان کی ترسیل اور بینک کا نمایاں بورڈ اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ ادارے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور قانون کو خاطر میں لانا شاید ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پلاٹ نمبر C-3پر سرگرمیاں کسی ’غلطی‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم ملی بھگت کا ثبوت ہے ۔ان کے مطابق بارہا شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونا اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ جاری خلاف ضابطہ تعمیر کو متعلقہ افسران کی پشت پناہی حاصل ہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سے مؤقف لینے کی کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا، جو خود اس معاملے پر سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔مکینوں نے چیف جسٹس، صوبائی حکومت اور شہر کے منتظمین سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالتی احکامات کی یوں دھجیاں اڑتی رہیں تو پورا شہر غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بن جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اس بات
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔