Juraat:
2026-07-24@03:41:49 GMT

سندھ بلڈنگ، فیڈرل بی ایریا کے رہائشی علاقے کمرشل ہونے لگے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

سندھ بلڈنگ، فیڈرل بی ایریا کے رہائشی علاقے کمرشل ہونے لگے

فیڈرل بی ایریا بلاک 6میں رہائشی پلاٹ پر بینک کی تعمیر ،سپریم کورٹ کے احکامات کا مذاق
رہائشی پلاٹ نمبر C-3 پر انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کی ملی بھگت ثابت ، علاقہ مکین برہم ہو گئے

وسطی کے معروف علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 6 کے رہائشی پلاٹ نمبر C-3پر بینک کی برانچ کی برق رفتار تعمیر نے متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کی غفلت نہیں بلکہ مبینہ ملی بھگت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود یہ تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا تو بے بس ہو چکے ہیں یا پھر دانستہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری بارہا حکم دے چکی ہے کہ رہائشی علاقوں کو کسی صورت کمرشلائز نہ کیا جائے ،دکانیں بینک آفسز اور ہر قسم کی کمرشل سرگرمی سختی سے ممنوع ہے ،غیر قانونی تعمیرات اور خلاف ورزیوں پر فوری کارروائی کی جائے ،خلاف ورزی کرنے والی عمارتیں سیل کی جائیں،مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے ۔ رہائشی علاقے کے وسط میں بینک کی برانچ کا کھلم کھلا قیام اس بات کی واضح نشانی ہے کہ عدالتی حکم اب صرف پڑھنے کی چیز رہ گیا ہے ۔ عمارت کے اندر تیزی سے جاری کام، سامان کی ترسیل اور بینک کا نمایاں بورڈ اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ ادارے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں اور قانون کو خاطر میں لانا شاید ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پلاٹ نمبر C-3پر سرگرمیاں کسی ’غلطی‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم ملی بھگت کا ثبوت ہے ۔ان کے مطابق بارہا شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونا اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ جاری خلاف ضابطہ تعمیر کو متعلقہ افسران کی پشت پناہی حاصل ہے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی سے مؤقف لینے کی کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا، جو خود اس معاملے پر سوالیہ نشان بن چکا ہے ۔مکینوں نے چیف جسٹس، صوبائی حکومت اور شہر کے منتظمین سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالتی احکامات کی یوں دھجیاں اڑتی رہیں تو پورا شہر غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بن جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اس بات

پڑھیں:

کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا

فائل فوٹو 

کراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی،  ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا