دہلی دھماکہ بہار انتخابات میں مودی کی کامیابی کی کنجی ثابت ہوا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دہلی میں ہوئے دہشتگردانہ دھماکے نے بہار کے ووٹرز کے موڈ کو بدل دیا اور این ڈی اے کے حق میں سیاسی رجحان مضبوط کیا۔
قومی سلامتی کے خدشات اور خوف کے ماحول نے عوام کی توجہ مقامی مسائل سے ہٹ کر ایسے امیدواروں کی طرف مبذول کر دی جو استحکام اور مضبوط قیادت کا وعدہ کرتے ہیں، جس سے نتیش اور بی جے پی کو فائدہ پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں:دہلی دھماکے میں ملوث مبینہ شخص کی ویڈیو جعلی نکلی، فرانزک رپورٹ نے بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹ بے نقاب کر دیا
دہلی دھماکے نے بہار میں سیاسی ماحول بدل دیا اور این ڈی اے کے حق میں ووٹوں کا رجحان بڑھا دیا۔ دھماکے کے بعد عوام کی توجہ مقامی مسائل سے قومی سلامتی کی طرف منتقل ہو گئی۔
جب خوف بڑھتا ہے تو ووٹرز ایسے امیدواروں کی طرف جھکتے ہیں جو استحکام کا پیغام دیتے ہیں، جس سے این ڈی اے کو فائدہ ہوا۔
مخالف جماعتیں جو کرپشن، بیروزگاری اور ذات پات کے مسائل پر ووٹ مانگ رہی تھیں، ان کا اثر کم ہو گیا کیونکہ این ڈی اے نے انتخابات کا مرکز قومی سلامتی اور قانون و نظم قائم رکھنے پر رکھ دیا، جس میں نتیش اور بی جے پی کی ساکھ مضبوط سمجھی جاتی ہے۔
یہ بھی پرھیں:نئی دہلی بم دھماکا خود کش تھا، بھارتی حکام کا بمبار کے ساتھی کی گرفتاری کا دعویٰ
بہار کی جغرافیائی حیثیت اور ماضی کے خطرات کی وجہ سے عوام دہشتگردی کے خدشات کے بارے میں حساس ہے۔ این ڈی اے کے مضبوط سرحدیں، پولیس اور انٹیلی جنس بہتر بنانے کے وعدے نے ووٹرز کو متاثر کیا۔
مخالف جماعتوں کے دھماکے کو سیاسی بنانے یا سیکیورٹی اداروں پر سوال اٹھانے کے اقدامات بھی عوام میں غیر ذمہ دارانہ لگے، جس سے این ڈی اے کو بحران کے دوران مستحکم اور ذمہ دار دکھنے کا موقع ملا۔
اس کے علاوہ، درمیانے طبقے، خواتین اور شہری علاقوں کے ووٹرز کی شرکت میں اضافہ ہوا، جو عموماً این ڈی اے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، اور انہوں نے سلامتی کو ذات یا علاقائی سیاست پر ترجیح دی۔ اس خاموش جھکاؤ نے این ڈی اے کی نشستوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی اے کے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔