پاک، چین سٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، توانائی و معدنیات شعبوں میں تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے، دونوں ممالک نےاس عزم کا اعادہ کیا کہ توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔
بدھ کو وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کے درمیان چینی سفارتخانے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور چین کے مضبوط اور دیرینہ شراکت دارانہ تعلقات کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ملاقات میں توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اور اس ساتھ ہی علاقائی استحکام اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے وژن پر بھی گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے چین کو پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف) 2026 میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کا شعبہ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے اور اس میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔چینی سفیر نے دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی ترغیب دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ چین اور پاکستان کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون ایک اہم ستون ہے اور چینی کمپنیاں پاکستان کے پیٹرولیم اور معدنیاتی شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایم سی سی اور سی این او سی اس شعبے میں نمایاں طور پر کام کر رہی ہیں جبکہ سائینداگ سمیت دیگر منصوبے چین کی سرمایہ کاری کے اہم مظاہر ہیں ۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے مشکل معاشی حالات کے دوران چین کی مستقل اور مخلصانہ معاونت پر گہری تشکر کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ ہر سطح پر کھڑا ہے اور چین کی سالمیت اور علاقائی استحکام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔چینی سفیر نے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے اسے پائیدار ترقی کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں اور باہمی تعاون کے ذریعے پاکستانی عوام کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ملاقات کا اختتام دونوں ممالک کے اس عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا کہ ہر موسم کی آزمودہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے راستے کھولے جائیں، خصوصاً توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون انہوں نے کہا کہ اور چین
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز