دبئی ایئر شو ،سربراہ پاک فضائیہ کی قیادت میں عالمی فضائی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
دبئی ایئر شو ،سربراہ پاک فضائیہ کی قیادت میں عالمی فضائی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز دبئی(سب نیوز ) دبئی ایئر شو 2025 کے موقع پر سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوست ممالک کے فضائی سربراہان سے سلسلہ وار اعلی سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔ سربراہ پاک فضائیہ نے متحدہ عرب امارات کے انڈر سیکرٹری برائے دفاع لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ ابراہیم ناصر العلاوی اور کمانڈر یو اے ای ائیر فورس اینڈ ائیر ڈیفنس میجر جنرل راشد محمد الشمسی سے بھی جامع ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں کا محور اعلی تربیت کے شعبوں میں تعاون کا فروغ، ابھرتی ہوئی ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز میں اشتراک اور آپریشنل ہم آہنگی کے نظام کو مزید موثر بنانا رہا۔ اماراتی عسکری قیادت نے پاک فضائیہ کی جدت طرازی، بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں اور مقامی ترقی کو سراہتے ہوئے مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ تبادلوں اور مستقبل کی بین العسکری شراکت داریوں کو مزید استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستان ایئر فورس کا دستہ دبئی ایئر شو 2025 میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات میں موجود ہے۔ یہ شرکت پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عالمی فضائی برادری کے ساتھ مضبوط روابط اور خطے میں امن و استحکام کے عزم کی نمایاں ترجمانی کرتی ہے۔ ایئر شو کے دوران جے ایف17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا جہاں دفاعی تجزیہ کاروں، ہوا بازی کے ماہرین و شایقین نے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط جنگی صلاحیتوں اور معرکہ حق میں اس کی ثابت شدہ عملی کارکردگی نے جے ایف17 تھنڈر کو ایک قابلِ اعتماد اور کم لاگت کثیر المقاصد لڑاکا طیارے کے طور پر مزید نمایاں کیا ہے۔
پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کے باعث مختلف ممالک نے جے ایف17 تھنڈر میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف17 تھنڈر کی خریداری سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور صنعتی تعاون میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ یہ معاہدہ طیارے کی عالمی مقبولیت اور پاکستان کی ایرو اسپیس صلاحیتوں پر مستقل بین الاقوامی اعتمادکامظہرہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز نیلام ہونگے، نام اور تھیم تبدیل نہ کرنے کی شرط عائد پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز نیلام ہونگے، نام اور تھیم تبدیل نہ کرنے کی شرط عائد لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، کالعدم تنظیم کے 2 خطرناک دہشت گرد ہلاک جدہ ریجن میں انویسٹر فورم کے سالانہ انتخابات کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل،چوہدری شفقت محمود صدر،چوہدری عبدالخالق لک سیکرٹری جنرل منتخب پنجاب میں گورننس کا نیا معیار، پہلی بار 120 ارب روپے کی خطیر بچت کا سنگِ میل عبور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی نشست کا معاملہ، محمود خان اچکزئی کے نام پر اعتراض سپریم کورٹ میں جج تعیناتی، دو ہائی کورٹس میں چیف جسٹسز کی تقرری کیلئے اجلاس طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سربراہ پاک فضائیہ دبئی ایئر شو
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں