Jasarat News:
2026-07-24@03:02:43 GMT

مراکش کے اشرف حکیمی افریقی فٹبالر آف دی ایئر قرار

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مراکش کے فٹبال اسٹار اشرف حکیمی کو اس سال کا افریقی فٹبالر آف دی ایئر منتخب کر لیا گیا۔

کنفیڈریشن آف افریکن فٹ بال (CAF) کی جانب سے منعقدہ ایوارڈز میں اشرف حکیمی کو یہ اعزاز دیا گیا، جہاں مصر کے محمد صلاح اور نائیجیریا کے وکٹر اوشیمین بھی اس کیٹگری میں شامل تھے۔

رپورٹس کے مطابق اشرف حکیمی نے مجموعی طور پر 61 گول اسکور کیے جبکہ پیرس سینٹ جرمین کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے 27 گول بنائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بائیں پاؤں میں انجری کے باوجود اشرف حکیمی اسٹیج پر ایوارڈ وصول کرنے کے لیے پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹرافی کو حاصل کرنا ان کے لیے بڑی خوشی اور اعزاز کی بات ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اشرف حکیمی

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین