ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں تاخیر ! شہری عدالت پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
کراچی : ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں تاخیر پر شہری عدالت پہنچ گیا اور کراچی کی لائسنس برانچز کے باہر ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کی استدعا کردی۔
تفصیلات کے مطابق ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں تاخیر پر شہری نے درخواست دائر کر دی۔شہری فیضان حسین نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے.جس میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں تاخیر اور سینٹرز کے باہر ایجنٹ مافیا کے راج کے خلاف موقف اختیار کیا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو لائسنس کے لیے طویل قطاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاہور میں پنجاب حکومت کے نافذ کردہ جدید نظام کی طرح کراچی میں بھی لائسنس کے نظام میں بہتری اور جدت لائی جائے۔مزید استدعا کی گئی ہے کہ کراچی کی لائسنس برانچز کے باہر ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا میں تاخیر
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک