WE News:
2026-06-03@05:36:18 GMT

افغان طالبان ، ان کے تضادات اور پیچیدگیاں

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

سمیع یوسف زئی معروف افغان صحافی ہیں۔ وہ نیوز ویک، ڈیلی بیسٹ،سی بی ایس کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں، وار رپورٹنگ ان کا خاص شعبہ رہا۔ آج کل بھی وہ دی بیسٹ، الجزیرہ، انڈیا ٹو ڈےو غیرہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ بعض افغان ڈیجیٹل اداروں کے لیے بھی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

سمیع یوسف زئی قوم پرست افغان صحافی سمجھتے جاتے ہیں اور کئی امور میں وہ پاکستانی پالیسیوں کے ناقد ہیں۔ ان کی رپورٹنگ میں پاکستان کی پالیسیوں پر سخت سوالات، تنقید اور شکوک ضرور ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستانی حلقوں میں انہیں بعض اوقات ’پاکستان مخالف‘ تصور کیا جاتا ہے۔

سمیع یوسف زئی کو اپنے طویل صحافتی تجربے اور ان سائیڈ انفارمیشن کے حوالے سے عالمی میڈیا میں افغان طالبان کے بارے میں خاصا باخبر تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں دوحہ معاہدہ، امریکی انخلا، افغانستان کی عالمی تنہائی ،طالبان کی سفارتی ناکامی پر مسلسل رپورٹنگ کی ہے۔ ان کی رپورٹس میں طالبان کی اندرونی تقسیم، قطر گروپ، قندھار گروپ اور فیلڈ کمانڈرز کے اختلافات، طالبان کے سیکیورٹی اداروں (جی ڈی آئی وغیرہ) کی سختیاں، امیر المومنین ملا ہبت اللہ کے دفتر اور عملی حکومت کے درمیان کشمکش وغیرہ کا احاطہ شامل ہے۔

اسی افغان صحافی کے ایک ڈیجیٹل انٹرویودیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں وہ افغانستان کی صورتحال اور افغان طالبان حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے گویا پھٹ پڑا۔ سمیع یوسف زئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاشی حالات اتنے ابتر ہیں کہ لوگوں کو ایک وقت کی روٹی بھی نہیں مل پا رہی۔ ان کے بقول:

’آپ یقین کریں کہ جو لوگ چند سال قبل 300 ڈالر ماہانہ کما لیتے تھے، اب انہیں 30، 40 ڈالر ماہانہ یعنی 3000 افغانی روپے بھی نہیں مل پا رہے۔ مارکیٹ میں چیزیں موجود بھی ہیں تو جب پیسے ہاتھ میں نہ ہوں تو کیا خریدا جائے ؟ اگر کوئی کہے کہ افغانستان میں ٹرین چل پڑی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس ٹرین سے کیا سامان جا رہا ہے ؟‘

سمیع یوسف زئی کا کہنا تھا، ’افغانستان میں معیشت کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے۔ وہاں بنکنگ سسٹم ہی نہیں، آئی بی این نہیں۔ اگر باہر سے کوئی کمپنی افغانستان پیسے انویسٹ کرنا چاہے تو وہ براہ راست بنکنگ چینل کے ذریعے نہیں بھجوا سکتی۔ چین سے کوئی افغان اگر سامان خرید کر افغانستان بھجوانا چاہے تو پہلے پیسے افغان بنکوں سے براہ راست چین چلے جاتے تھے، اب ایسا نہیں ہوسکتا۔ پہلے وہ پیسے سمگلنگ یعنی حوالہ، ہنڈی کے ذریعے دوبئی، سنگا پور یا پاکستان آئیں گے ، یہاں سے چین بھیجے جا سکیں گے ۔ ‘

سمیع یوسف زئی کے مطابق کچھ لوگ یہاں یہ تاثر دیتے ہیں کہ افغانستان میں گویا دودھ، شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، وہاں جائیں تو سب کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے ۔ معیشت تباہ حال ہے، لوگوں کے حالات ابتر ہیں جبکہ شدید گھٹن اور ڈپریشن ایسا کہ ڈر کے مارے فیس بک پر کوئی شخص تنقیدی پوسٹ نہیں لگا سکتا۔ بس یا پبلک ٹرانسپورٹ پر آپس میں بات نہیں کر سکتا (کہ سن نہ لی جائے۔ )۔ افغانستان میں جو (ٹوٹا پھوٹا )جرنلزم تھا، وہ بھی ختم ہوگیا۔ سمیع یوسف زئی وہاں کام نہیں کر سکتا، طالبان کہتے ہیں کہ پہلے اجازت لیں۔ مزار شریف میں سرکاری ٹی وی چینل بھی بند کر دیا گیا ہے بلکہ وہاں ملا ہبت اللہ کے نمائندے نے فائبر نیٹ بھی بند کر دیا ہے کہ لوگ نجانے اس میں کیا واہیات چیزیں دیکھتے ہیں۔ اب پتہ نہیں اور کیا کیا عجیب خبریں وہاں سے آئیں گی۔ دراصل طالبان کا افغانستان اب عجائبستان بن چکا ہے۔ جبکہ حال یہ ہے کہ افغان وزیراعظم ملا حسن اخوندزادہ سے اگر لوگ شکایت کریں تو وہ کہتا ہے کہ مجھ سے کیوں کہتے ہوِ ، اللہ سے شکایت کرو، اس سے مانگو بلکہ زور زور سے مانگو۔ ”
انٹرویو لینے والی خاتون فرزانہ علی پشاور کی معروف صحافی ہیں، وہ بھی ہکا بکا رہ گئیں، حیرت سے انہوں نے پوچھا کہ وزیراعظم یہ کہتا ہے ؟َ سمیع یوسف زئی نے دل گرفتگی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ جی وہ کہتا ہے کہ اللہ سے مانگو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ ہی دیتا ہے، مگر کچھ اسباب بھی تو پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں تو چیزیں بہت ہی مشکل اور پریشان کن ہو چکی ہیں۔
سمیع یوسف زئی کے مطابق انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے والوں پر زیادہ ترس آتا ہے کیونکہ ان کی زندگی طالبان نے مشکل بنا دی ہے، کئی سکول اڑا دئیے ہیں، آزادی چھین لی ہے۔ انہوں نے اپنا ایک تجربہ بیان کیا کہ جب وہ غزنی میں افغان طالبان کے ایک گروپ کے ساتھ تھے تو وہاں دیکھا کہ ایک بالکل جاہل سے مولوی کےسامنے پورا گاوں ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ انہوں نے کسی مقامی شخص سے اس کی وجہ پوچھی تو وہ کہنےلگا کہ معمولی سی بھی بات نہ مانی جائے تو یہ گردن اڑا دیتے ہیں۔کیا کریں اس لیے ہر بات ماننا پڑتی ہے۔ ”
سمیع یوسف زئی سے پوچھا گیا کہ نوے کے عشرے کے افغان طالبان اور آج کے افغان طالبان میں کیا فرق ہے ؟سمیع یوسف زئی کا بے ساختہ جواب تھا، “کوئی فرق نہیں۔ ” تجربہ کار افغان صحافی کے مطابق انہیں اس پر شدید حیرت ہوتی ہے کہ ان پرانے افغان طالبان اور نئی نسل کے طالبان میں بالکل فرق نہیں ۔ یہ بھی اتنے ہی سخت گیر، بے لچک ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں بڑا ایکسپوژر حاصل ہوگیا ہے تو یہ بدل گئے ہوں گے، مگر ایکسپوژر کے لیے بھی وژن چاہیے ہوتا ہے، افغان طالبان میں وژن بالکل نہیں ۔ ”
سمیع یوسف زئی نے خاصا عرصہ دوہا، قطر میں رہ کر رپورٹنگ کی ہے اور وہاں افغان طالبان اور امریکیوں کے مذاکرات کو بھی وہ رپورٹ کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے قطر میں ان سب کو دیکھا ہے۔ دو سال کے مذاکرات کے دوران دوہا بچیس تیس بار گیا ہوں۔ وہاں پر بیٹھے لوگ بے شک اچھے گھروں میں رہتے تھے، مگر ویژن نہیں تھا۔ ان کے سافٹ بیانات دنیا کو دکھانے کے لیے تھےکہ ہم تبدیل ہوگئے ہیں، مگر کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی وہ جھوٹ بول رہے تھے کہ ہم پابندی نہیں لگائیں گے۔ “سمیع نے بتایا کہ ایک بار ماسکو میں ایک بڑے طالبان لیڈر کا انٹرویو کیا جس نے انہیں کہا کہ ہم اقتدار میں آ کر برقعے کو لازمی نہیں قرار دیں گے۔ آدھے گھنٹے بعد مگر اسی طالبان لیڈر نے آ کر درخواست کی کہ انٹرویو کے اس حصے کو نکال دیں ہمارے کچھ لوگ برا مان جائیں گے۔ ”
طالبان لیڈروں کی مغرب کے ساتھ پولٹیکل انگیجمنٹ کا حال سناتے ہوئے سمیع یوسف زئی نے بتایا کہ امریکی نمائندوں کےساتھ دوہا میں مذاکرات کا پہلا دور چلا تو امریکی بڑی تیاری کر کے ائے تھے، سلائیڈز وغیرہ کےساتھ کہ لمبی بات ہوگی۔ ادھر افغان طالبان کی جانب سے عباس ستانکزئی نے پہلے بات کی اور نسبتاً بہتر بولے مگر پھر جو بھی طالبان لیڈر کھڑا ہوا اس نےبسم اللہ، الحمداللہ کے بعد یہی کہا کہ میرے بھی وہی خیالات ہیں جو عباس ستانکزئی نے بیان کئے۔ یوں وہ میٹنگ اتنا جلد ختم ہوگئی کہ امریکی ہکا بکا رہ گئے۔ یہ تو حال تھا افغان طالبان لیڈروں کا ایکسپوژر اور مغرب کے ساتھ پولیٹیکل انگیجمنٹ کا ۔ افغان طالبان کے پاس کوئی پروگرام، وژن وغیرہ تھا ہی نہیں۔ دراصل یہ افغان سوسائٹی کے محروم لوگ ہیں۔ ایسے لوگ جو مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے لوگوں کے گھروں سے روٹی جمع کرتے اور پھر کھانا کھاتے ۔ اب جب کہ وہ اقتدار میں آچکے ہیں، پھر بھی ان کی وہ محرومیاں اور احساس محرومی، احساس کمتری ختم نہیں ہوا۔ حال تو یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شخص وزیر ہوتا ہے، پھر اسے کہیں ڈائریکٹر بنا دیتے ہیں اور چند دنوں بعد وہ کہیں پولیس انسپکٹر کے طور پر کام کر رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص احتجاج ہی نہیں کرتا کہ میں پہلے وزیر تھا اور اب انسپکٹر بنا دیاگیا۔ دراصل انسپکٹر کا عہدہ بھی اس کی اوقات سے زیادہ لگ رہا ہوتا ہے۔ مگر اس طرح سے تو حکومت نہیں چلائی جاتی۔ ”
سمیع یوسف زئی نے فرزانہ علی کے پوچھنے پر افغان طالبان کے موجودہ امیر المومنین ملا ہبت اللہ کے بارے میں بتایا کہ وہ کچلاک کے ایک عام سے مدرسے میں رہتے تھے اور کوئی نمایاں عالم نہیں تھے۔ البتہ ملا منصور کو جب امیر بنایا گیا تب دو دھڑے بن گئے تھے۔ ملا آغا،ملا منان نیازی وغیرہ ناراض تھے۔ ملا منصور کا خاندان بڑا اور مالی اعتبار سے طاقتور تھا ، اسی لیے ملا منصور اسحاق زئی امیر بن گیا ،مگر اختلافات موجود رہے تھے۔
“جب امریکیوں نے اسے نشانہ بنایا تب اگلے امیر کے لیے اختلافات ختم کرانے کے لیے ملا ہبت اللہ کو یہ سوچ کر بنایا گیا کہ یہ عاجز، منکسر مزاج شخص ہے ، ایک مولوی ہے یہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ یہ اور بات کہ اب ملا ہبت اللہ ان سب کے معاملات میں نہ صرف مداخلت کر رہے ہیں بلکہ سب سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکے ہیں۔ اب سب معاملات ملا ہبت اللہ کے ہاتھ میں آ چکے ہیں، وہ پورے افغانستان میں سب سے طاقتور آدمی بن چکے ہیں، فائنل اتھارٹی۔ خود ملا ہبت اللہ کا بھی کہنا ہے کہ وہ ہر معاملے میں درست موقف رکھتے ہیں اور کوئی انہیں چیلنج نہیں کر سکتا۔ ”
سمیع یوسف زئی کے خیال میں پاکستان کو چاہیے کہ افغانستان میں جمہوری لوگوں کو سپورٹ کرے۔ ان کے خیال میں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ اگر افغانستان سے باہر ہوتے تو وہ طالبان کے خلاف اچھی سیاسی سپورٹ اکھٹی کر سکتے تھے۔ سمیع نے بتایا کہ حامد کرزئی تو شائد افغانستان سے نکل جانا چاہتے تھے، مگر طالبان کابل کے باہر پہنچ چکے تھے۔ تب ایران کی جانب سے انہیں پیغام آیا کہ ہمارا ایک ہیلی کاپٹر ایرانی ایمبیسی پہنچ رہا ہے، اس کے ذریعے آپ نکل آئیں۔ تب عبداللہ عبداللہ نے جانے سے انکار کر دیا کہ یہ کیسی عجیب بات ہوگی کہ میں یوں فرار ہو کر ایران چلا جاوں۔ اب انہیں افغان طالبان باہر نکلنے نہیں دے رہے، وہ ایک طرح سے قیدی ہیں۔” سمیع یوسف زئی کے مطابق گلبدین حکمت یار پر زیادہ سخت پابندیاں ہیں۔ حکمت یار جس گھر میں رہتے تھے، انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ دوسرے گھر سے بھی نکال دیا گیا، ان کی توہین کی گئی، تاہم حکمت یار اس کے باوجود بات کرتے رہتے ہیں۔ ”
افغان صحافی سمیع یوسف زئی نے ایک بہت دلچسپ انکشاف کیا کہ دوہا مذاکرات میں زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان کو بہت زیادہ رعایتیں دیں اور اگر ان کی جگہ کوئی گورا امریکی امریکہ کی جانب سے ٹیم کا سربراہ ہوتا تو وہ کبھی افغان طالبان کو اتنے فوائد اور مراعات نہ دیتا۔ سمیع یوسف زئی نے ایک مثال دی کہ امریکی ٹیم نے اصرار کیا کہ دوہا معاہدے میں یہ بات لکھی جائے کی فلاں فلاں دہشت گرد گروپ جیسے القاعدہ وغیرہ کو افغانستان میں مدد فراہم نہیں کی جائے گی، مگر افغان طالبان کی نیت میں چونکہ فتورتھا، اس لیے انہوں نے زور دیا کہ نہیں کسی کا نام نہ لیں بس جنرلی لکھ دیں کہ افغان طالبان اقتدار میں آ کر کسی بھی دہشت گردپ کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ سمیع یوسف زئی کے مطابق دراصل زلمے خلیل زاد اور اشرف غنی میں طالب علمی کے دور سے اختلافات اور مسائل چلے آئے تھے، یہ دونوں کلاس فیلو تھے۔ بہت سے افغان یہ سمجھتے ہیں کہ زلمے خلیل زاد نے اپنے پرانے اختلافات کی وجہ سے ہم سے یہ انتقام لیا ۔
سمیع یوسف زئی کے مطابق ،”امریکہ سے دوہا معاہدے کی دو اہم شقوں یعنی بین الافغان مذاکرات یا انکلیوسو حکومت کی طرف افغان طالبان کبھی نہیں جائیں گے۔ افغان طالبان نے تو ان لوگوں کو بھی دوبارہ اکاموڈیٹ نہیں کیا جو کچھ وقت کے لیے ان سے دور ہوگئے تھے۔ جیسے سابق افغان وزیر خارجہ ملا وکیل آحمد متوکل کو افغان طالبان نے کچھ نہیں دیا، حالانکہ وہ پھر سے ان کے ساتھ آ ملے تھے۔ اسی طرح طیب آغآ جس نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، اسے بھی باہر کر دیا۔ دوسری طرف افغان طالبان نے دو تین برائے نام وزیر بنا دئیے ہیں کہ یہ غیر طالبان ہیں۔سمیع یوسف زئی سے سوال پوچھا گیا کہ ملا متقی کی جگہ عباس ستانکزئی کو وزیرخارجہ بنانا زیادہ بہتر نہ ہوتا۔ سمیع کا جواب تھا، ” افغان طالبان میں وفاداری کی سب سے بڑی شرط مدرسے سے فارغ التحصیل ہونا ہے۔ عباس ستانکزئی کی اصل خامی یہی ہے کہ وہ پڑھا لکھا ہے، مگر مدرسے کاپڑھا ہوا نہیں۔ اس لیے افغان طالبان حکومت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ”
افغآن طالبان سیٹ اپ میں قندھار گروپ اور حقانی گروپ کے حوالے سے سمیع یوسف زئی کا تجزیہ دلچسپ بھی ہے اور انکشاف انگیز بھی۔ بات مگر بہت طویل ہو چکی، کالم کی سپیس نہیں رہی۔ باقی ان شااللہ اگلی نشست میں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سمیع یوسف زئی کے مطابق سمیع یوسف زئی نے سمیع یوسف زئی کا افغان طالبان کے ملا ہبت اللہ کے عباس ستانکزئی افغانستان میں کہ افغانستان افغان صحافی کے حوالے سے طالبان میں طالبان نے طالبان کی بھی نہیں بتایا کہ کہ افغان انہوں نے ہوتا ہے کے ساتھ نہیں کر ہیں اور بھی وہ کے لیے ہیں کہ کر دیا

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی