سندھ میں میٹرک و انٹر امتحانات کی ای مارکنگ کا باقاعدہ آغاز 4 دسمبر کو ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ کے امتحانی نظام میں ایک اہم تبدیلی کی جا رہی ہے، جس کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کو روایتی طریقہ کار سے نکال کر مکمل طور پر ڈیجیٹل اسسمنٹ کے مرحلے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں ای مارکنگ کے منصوبے کی باقاعدہ لانچنگ 4 دسمبر کو کراچی میں منعقد ہوگی، جہاں پورے ملک سے 29 مختلف تعلیمی بورڈز کے سربراہان کے ساتھ ساتھ آئی بی سی سی کے اعلیٰ حکام بھی شرکت کریں گے۔
اس تقریب کا مقصد نہ صرف ای مارکنگ کے جدید نظام کا باضابطہ آغاز کرنا ہے بلکہ سندھ میں امتحانی عمل کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا بھی ہے۔
وفاقی تعلیمی بورڈ اس موقع پر سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز کو وہ تمام تکنیکی سافٹ ویئر فراہم کرے گا جو ای مارکنگ اور امتحانی کاپیوں کی اسکیننگ سے لے کر بار کوڈ اور کیو آر کوڈ سسٹم تک مکمل میکانزم کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔
اس جدید نظام کا عملی استعمال 2026ء کے سالانہ امتحانات سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ سندھ کے امتحانی عملے کو ملک گیر سطح پر یکساں ڈجیٹل ٹولز مہیا کیے جائیں گے، جن کے ذریعے طلبہ کے امتحانات میں شفافیت، تیزی اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
اس سلسلے میں سندھ حکومت نے امتحانات کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای مارکنگ کے نفاذ کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کر دی ہے، جس کا نوٹیفکیشن محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے سیکریٹری عباس بلوچ نے جاری کیا۔ کمیٹی میں کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ، شہید بینظیر آباد بورڈ اور سکھر تعلیمی بورڈ کے چیئرمین شامل ہیں، جبکہ ایڈیشنل سیکریٹری بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔
اس کمیٹی کی ذمے داری ہے کہ وہ ای مارکنگ کے نظام کو سندھ کے تعلیمی ڈھانچے میں مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے تجاویز اور عملی منصوبہ بندی مرتب کرے۔
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ نے وفاقی حکام کو اس بات پر قائل کیا ہے کہ جس طرح اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس ملک بھر میں فراہم کی جاتی ہیں، اسی طرح ای مارکنگ کا نظام بھی صوبوں تک منتقل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 2026 کے امتحانات میں انٹرمیڈیٹ کے پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل کے طلبہ کی کاپیوں کی مارکنگ پہلی مرتبہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگی۔ ہر امتحانی کاپی کے ہر صفحے پر کیو آر کوڈ درج ہوگا اور اسکیننگ کے بعد ہر سوال صرف ایک مخصوص مارکر کے پاس جائے گا، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر سوال کی جانچ مختلف اساتذہ کریں تاکہ امتحانی نتائج میں کسی بھی قسم کی جانبداری یا غلطی کا امکان کم سے کم رہ جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکنگ کے تعلیمی بورڈ سندھ کے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔