سڑکوں کی چوڑائی آدھی، نکاسی آب کی لائنیں مفلوج، شہری بنیادی سہولیات سے محرو م
ذوالفقار بلیدی، بیٹر راشد کی ملی بھگت ،سعود آباد ایس ٹو پلاٹ 703 پرتعمیراتی لاقانونیت

شہر قائد کے خوبصورت اور منظم ہونے کا خواب دکھانے والا علاقہ ملیر سعود آباد اب غیرقانونی تعمیرات کے جنگل میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے ، جہاں مافیا نے باقاعدہ پراپرٹی کاروبار کھول رکھا ہے اور شہری نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ اپنی جان و مال کے خطرے سے بھی دوچار ہیں۔ملیر کے مختلف علاقوں میں دس سے پندرہ فٹ چوڑی سڑکوں کو تنگ کر کے محض گلیاں بنا دیا گیا ہے ۔ پارکنگ کے لیے مخصوص جگہیں اور پارک مکمل طور پر کچے اور پکے مکانوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور اس میں تیزی تب آئی جب مافیا نے کھلے عام پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے زمینوں کے ناجائز الاٹمنٹ اور تعمیرات کا کاروبار شروع کیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ’’ہماری نسل کے کھیلنے کے لیے جو گراؤنڈ تھا، اس پر راتوں رات مافیا نے دیواریں کھڑی کر دیں‘‘۔مقامی رہائشی نے بتایا، ’’ہم نے کئی بار احتجاج کیا، شکایات درج کروائیں، لیکن ہر بار کچھ دنوں کی کارروائی کے بعد صورتحال پہلے جیسی ہو گئی۔ کچھ عرصہ پہلے ہماری شکایات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران آئے اور معمولی توڑ پھوڑ کی، لیکن اگلے ہی ہفتے انہیں جگہوں پر دوبارہ تعمیر شروع ہو گئی‘‘۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ، ان غیرقانونی تعمیرات نے نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے ہر بارش کے بعد سڑکیں اور گلیاں نہر بن جاتی ہیں۔ بجلی کی تاروں پر غیرقانونی قبضے نے بجلی کے شارٹ سرکٹ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے ۔اس سارے معاملے میں متعلقہ حکومتی اداروں کی خاموشی اور مبینہ ملی بھگت سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مافیا حکام کو معقول معاوضہ ادا کر کے ہر نئی تعمیر کی ’’پرچی‘‘ لے لیتا ہے ، جس کے بعد کوئی بھی کارروائی صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہے ۔ پولیس احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف ہی کارروائی کو ترجیح دی ہے ۔ جبکہ مافیا کے ارکان بلا روک ٹوک اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سعود آباد ایس ٹو پلاٹ نمبر 703 پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی ملی بھگت سے تعمیراتی لاقانونیت کی چھوٹ بیٹر راشد نے حاصل کر رکھی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ خوبصورت کالونی کراچی کی ایک اور ’’کرائم سٹی‘‘ بن کر رہ جائے گی، جہاں قانون کی عملداری صرف کاغذوں تک محدود ہوگی اور شہری اپنے بنیادی حقوق کے لیے ترس جائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب