علیمہ خان انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش، وارنٹس منسوخ کر دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: عمران خان کی بہن علیمہ خان انسداد دہشت گردی عدالت میں گیارہویں وارنٹ گرفتاری کے بعد پیش ہو گئیں۔
دورانِ سماعت مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان اور پانچوں سرکاری گواہ بھی عدالت پہنچے۔ تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو علیمہ خان کی جانب سے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی استدعا دائر کردی گئی۔
علیمہ خان کے وکلا نے عدالت میں پیش ہونے کے بعد گزشتہ جاری تمام وارنٹ گرفتاری اور علیمہ خان کے منجمد بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کی درخواست بھی کی۔
عدالت نے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے خاتمے کی درخواست قابلِ سماعت قرار دی اور وکیلِ سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 26 نومبر کو دلائل طلب کر لیے۔
اسی دوران عدالت نے پراپرٹی ضبطی کا عمل بھی روک دیا جب کہ علیمہ خان کے خلاف جاری تمام وارنٹس ختم کرتے ہوئے انہیں آئندہ تاریخ پر ذاتی حیثیت میں حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے پانچوں گواہان کو بھی طلب کر لیا۔
سماعت ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں وکیلِ سرکار نے علیمہ خان کی درخواستوں کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ دانستہ پیش نہیں ہوتی رہیں، جس سے عدالتی امور میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ غیر حاضری سے مقدمہ بلاوجہ طوالت کا شکار ہوا اور عدالت کی حکم عدولی کرنا توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم عدالت نے ان اعتراضات کے باوجود ملزمہ کے وارنٹس ختم کر دیے اور کیس کی کارروائی کو آئندہ تاریخ تک مؤخر کر دیا۔
سماعت کے بعد صحافیوں نے جب علیمہ خان سے سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے اس بیان سے متعلق سوال کیا کہ انہوں نے اڈیالہ جیل میں مبینہ تشدد کی مذمت کی ہے، تو ان کا جواب نہایت سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ پہلے بدمعاشی کرتے ہیں اور بعد میں مذمت کرتے ہیں، یہ بدمعاشوں کی حکومت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔