سابق وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں ایک اصول پسند اور زندہ دل شخصیت قرار دیا۔

اسلام آباد میں منعقدہ ریفرنس میں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عرفان صدیقی ہمیشہ محبت اور احترام کے ساتھ بات کرتے تھے اور الفاظ کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے۔

مزید پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ افسوس اور تعزیت

پرویز رشید نے یاد دلایا کہ ان کا تعلق کالج کے دنوں سے تھا اور عرفان صدیقی ملکی سیاست میں اپنا منفرد مقام رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی محفل کی جان ہوتے اور بارش کے موسم کو خصوصی طور پر پسند کرتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عرفان صدیقی نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بھی دلچسپ یادیں رقم کیں اور اپنی تحریروں میں زور بیاں سے قائل کرنے کے ہنر کا مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیں: سینیٹر عرفان صدیقی کے نام پر سیاسی رہنماؤں سے لاکھوں روپے ہتھیانے کا واقعہ

پرویز رشید نے ایک خط بھی پڑھ کر سنایا جو عرفان صدیقی نے سینیئر صحافی نصرت جاوید کو لکھا تھا۔

پرویز رشید نے کہا کہ عرفان صدیقی ایک ایسے سیاستدان تھے جنہیں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا، اور ان کے اصولوں اور کردار کی تعریف ہمیشہ کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینیئر صحافی نصرت جاوید سینیٹر پرویز رشید سینیٹر عرفان صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سینیئر صحافی نصرت جاوید سینیٹر پرویز رشید سینیٹر عرفان صدیقی سینیٹر عرفان صدیقی کہ عرفان صدیقی پرویز رشید نے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا