بالی ووڈ اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے حال ہی میں جذباتی اور جسمانی دھوکہ دہی کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جذباتی دھوکہ جسمانی دھوکے سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔

ایک انٹرویو میں جب سنیتا سے پوچھا گیا کہ جذباتی دھوکہ اور جسمانی دھوکہ میں کون سا زیادہ نقصان دہ ہے، تو انہوں نے کہا جذباتی دھوکہ۔ کیونکہ آپ کسی انسان سے جذباتی طور پر محبت کرتے ہیں اور پھر اسے دھوکہ دیتے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ میں بہت جذباتی ہوں۔ میں گووندا سے اپنی موت تک محبت کرتی ہوں۔ اگر مجھے جذباتی طور پر کوئی دھوکہ دے، چاہے وہ میرے بچے ہوں یا شوہر، مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکار گووندا مشکل میں، بیوی سنیتا آہوجا کا بے وفائی اور ظلم کرنے کا الزام

سنیتا نے جسمانی دھوکہ کے بارے میں بھی موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی بالکل درست نہیں ہے۔ یہ دونوں چیزیں کرنا مناسب نہیں۔ ہمارے والدین نے ہمیں ایسے اخلاق سکھائے ہیں کہ دھوکہ دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آج کل سماج میں دھوکہ دہی کو معمول سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ غلط ہے۔

واضح رہے کہ معروف بالی وڈ سپر اسٹار گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا  نے باندرہ فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ سنیتا آہوجا نے شوہر پر بے وفائی، ظلم و ستم اور رشتے سے کنارہ کشی جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار سنیل شیٹی سابق سپر اسٹار گووندا سے ناراض

ذرائع کے مطابق، سنیتا آہوجا نے ہندو میرج ایکٹ 1955 کی دفعہ 13(1)(i) (ia)، اور (ib) کے تحت طلاق کی درخواست دائر کی ہے۔ عدالت نے اداکار گوندا کو 25 مئی کو طلب کیا تھا، جس کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سنیتا باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہو رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سنیتا آہوجا گووندا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ سنیتا ا ہوجا گووندا سنیتا ا ہوجا

پڑھیں:

اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین

کراچی، اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے اداکار منیب بٹ کو تفتیش کے بعد بے گناہ قرار دیتے ہوئے چالان میں ان کے خلاف الزامات برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد منیب بٹ کے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں منیب بٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد چالان میں ان کے مؤکل کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا اب ضمانت کی درخواست برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں، اس لیے اسے واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نےمحمد متعال نامی شہری کو اغوا کر کے ان سے24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا تھا۔

تحقیقات کے دوران منیب بٹ پر یہ الزام سامنے آیا تھا کہ انہوں نے مرکزی ملزمان کو مری میں رہائش فراہم کرنے میں معاونت کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ تفصیلی تفتیش اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا، جس کے باعث انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔

پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد ایک پولیس اہلکارغالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو مبینہ طور پر اغوا کیا، ان سے کرپٹو کرنسی اور دیگر قیمتی سامان حاصل کیا اور بعد ازاں انہیںکورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

عدالت نے وکیل کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت متعلقہ قانونی کارروائی کے لیے ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • دُنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی