اسلام آباد (نیوزڈیسک) آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لئے آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کریں گے، اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔

ایجنڈے کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل بھی منظوری کیلئے پیش کریں گے، پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل بھی منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظوری کیلئے پیش کریں گے۔

قومی اسمبلی نے تمام بل گزشتہ روز منظور کئے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر اتحادیوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے، ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹیفکیشن جاری ہو گا، نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی۔

آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے، وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔

آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کو 3 سال کیلئے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔

آرمی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایکٹ ترمیمی بل سینیٹ میں پیش منظوری کیلئے آرمی ایکٹ آرمی چیف کریں گے جائے گا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن