آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کیلئے آج سینیٹ میں پیش ہوگا، اجلاس کا ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیر دفاع خواجہ آصف آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے آج سینیٹ میں پیش کریں گے، اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔
ایجنڈے کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف پاکستان ائیر فورس ایکٹ ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کریں گے۔ پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے سینیٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کریں گے۔
افغان کرکٹر راشد خان کی دوسری اہلیہ کون؟ تصاویر سامنے آگئیں
یہ تمام بل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کیے جائیں گے ۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے ستائیس ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے، ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹیفکیشن جاری ہو گا، نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہوگی۔
آرمی ایکٹ میں کہا گیا کہ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے، وزیراعظم آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔
کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ
آرمی ایکٹ کے مطابق کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہو گی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کو 3 سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔
آرمی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: منظوری کے لیے آرمی ایکٹ آرمی چیف میں پیش کریں گے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔