قومی اسمبلی میں تینوں سروسز ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دیدی: چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تقرر سے 5 برس تک
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیم بل پر دستخط کر دیئے۔ 27 ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکی ہے۔ بل اب آئین کا حصہ بن گیا ہے۔ قبل ازیں سینٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی نئی ترامیم کے ساتھ منظوری دیدی۔ ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہوا جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کا نیا متن پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم کے نئے متن کو سینٹ میں پیش کیا جس کے بعد ترامیم کو شق وار منظور کیا گیا۔ وزیر قانون کی جانب سے ترمیم پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے ایوان میں ڈیسک بجاکر احتجاج کیا جبکہ ترامیم کی شق وار منظوری کے دوران بھی اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ اپوزیشن ارکان نے عدلیہ کی تباہی نامنظور کے نعرے لگائے جس پر چیئرمین سینٹ نے انہیں نعرے بازی سے منع کیا۔ پی ٹی آئی کی فلک ناز، مرزا آفریدی اور فیصل جاوید نے چیئرمین ڈائس کے سامنے دھرنا دے دیا جبکہ پی ٹی آئی ارکان ووٹنگ کا حصہ نہیں بنے۔ جے یو آئی کے 4 ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا جبکہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ووٹ آئینی ترمیم کے حق میں دیا۔ کلاز 2 میں ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے اور ترمیم کے خلاف 4 ووٹ آئے۔ قبل ازیں27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کے بعد تقسیم کے ساتھ ووٹنگ کا عمل کیا گیا اور سینٹ میں گھنٹیاں بجائی گئیں جبکہ اس دوران سینٹ ہال کے داخلی اور خارجی راستے بند کردئیے گئے۔ وزیر قانون اعظم نذیر نے ایوان کو بتایا کہ آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میں جو سینئر ہوگا وہ چیف جسٹس پاکستان ہوگا۔ صدر کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے اور الیکشن کمشن کا حلف چیف جسٹس پاکستان لیں گے۔ کوئی عدالت آرٹیکل 6 کے تحت کسی مارشل لاء یا غیر آئینی اقدام کی توثیق نہیں کر سکے گی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، موجودہ چیف جسٹس اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، کچھ وضاحتیں ضروری تھیں، اس وجہ سے مزید ترامیم پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6 غداری سے متعلق ہے، اگر کوئی طاقت سے آئین کو پامال کرتا ہے، آرٹیکل 6 کے مرتکب افراد کو کوئی عدالت توثیق نہیں دے گی۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ چیف جسٹس، آڈیٹر جنرل کے حلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے۔ کوئی عدالت آرٹیکل 6 کے تحت کسی مارشل لاء یا غیر آئینی اقدام کی توثیق نہیں کر سکے گی۔ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ تحریک انصاف بھول گئی کیسے جلدی میں اسمبلی توڑی گئی۔ جب عدم اعتماد ہوا تو انہوں نے اسمبلی توڑ دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے خودبخود تو اپلائی نہیں ہوگا۔ کسی ممبر نے ضمیر کے مطابق ووٹ کاسٹ کیا تو وہ کائونٹ ہوگا۔ آئین اور قانون کے مطابق وہ ووٹ کائونٹ ہونا چاہیے۔ 27 ویں آئینی ترمیم سینٹ سے پاس ہو چکی ہے۔ جب ترمیم اسمبلی گئی تو کچھ کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آرٹیکل 6 میں تبدیلی کرنا بہت ضروری ہوگیا تھا۔ سینیٹر علی ظفر نے ایوان بالا میں اظہار خیال میں حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کہا تھا جلد بازی نہ کریں غلطیاں نکلیں گی، جب 27 ویں ترمیم اسمبلی پہنچی تو پتہ چلا بہت غلطیاں ہیں۔ یہ سب صرف ایک شخص کے ڈر کی وجہ سے کیا جا رہا ہے، لوٹا کریسی کو فروغ دینا شرمناک ہے۔ آپ سب نے تالی بجا کر ثابت کیا یہ جھوٹ اور فریب کی سیاست کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ سب کچھ کنٹرول کرنے کیلئے جلد سے جلد آئینی عدالت بنانا چاہتے ہیں، یہ سب صرف ایک شخص کے ڈر کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ لوٹاکریسی اور فریب کو پروموٹ کرنا بہت شرمناک ہے، کل آپ یہ مت کہنا کہ ہم لوٹا ازم کے خلاف ہیں، لوٹا ازم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے تو یہ حمایت کررہے تھے۔ عوام 27ویں آئینی ترمیم کے ساتھ نہیں ہیں، آپ نے دو ووٹ چوری سے لے لئے، لیکن سچ کو نہیں چھپا سکیں گے، جو آئینی عدالت بنا رہے ہیں اس میں مارشل لاء قبول کی اجازت تھی، یہ غلطی دور کی گئی، اس غلطی کو دور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ سب جلدی میں کیا جارہا ہے، یہ سارے کا سارا مذاق ہو رہا ہے۔
اسلام آباد( اپنے سٹاف رپورٹر سے+ وقائع نگار+ خصوصی رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کا مقصد افواج پاکستان سے متعلق قوانین کو ستائیسویں آئینی ترمیم سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان کی بنیاد پر ضروری قانون سازی کی گئی ہیں جس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی میعاد بھی شامل ہے۔ ان ترامیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ موجودہ چیئرمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح سے ان قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی شامل کئے گئے ہیں۔ یہ سکیم اور متعلقہ قوانین میں ترمیم ہمعصر اور جدید جنگی تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجویز کی گئیں ہیں۔ وفاقی کابینہ نے فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ 2025ء کے مسودے کی بھی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 7 نومبر 2025 ء کو ہونے والی اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی۔ دریں اثناء قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961ء میں ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔ بل وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا جس پر سپیکر نے رائے شماری کرائی اور ایوان نے اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ اسی طرح پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء میں ترمیم اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961ء میں ترمیم کا بل بھی خواجہ آصف نے ایوان میں پیش کیا اور اسے بھی ارکان اسمبلی نے ووٹنگ کے ذریعے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ ایوان میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل پیش کیا گیا اور اسے بھی منظور کرلیا گیا۔ وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ اپوائنٹمنٹ کی تاریخ سے پانچ سال کا ہوگا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27ویں ترمیم کو موجودہ قانون سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یہ ترامیم لائی گئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت دی کہ چیف آف ڈیفنس کا عہدہ اپوائنٹمنٹ کی تاریخ سے پانچ سال کا ہوگا۔ ایئرفورس اور نیوی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ آئین کے مطابق نئی عدالت میں تعیناتیوں کی ترامیم منظور کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب سے چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ ایوان نے گھریلو تشدد کے تحفظ اور روک تھام کا بل بھی منظورکرلیا۔ رکن شرمیلا فاروقی نے گھریلو تشدد کے تحفظ اور روک تھام کا بل پیش کیا تھا۔ جے یو آئی ارکان کی جانب سے گھریلو تشدد سے متعلق بل کی مخالفت کی گئی۔ رکن نعیمہ کشور نے کہا کہ ہمیں وقت دیا جائے تاکہ اس بل پر غور کرسکیں، ہمیں دو دن کا وقت دیں تاکہ ترمیم لا سکیں، ہم گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مسترد کرتے ہیں۔ رکن عالیہ کامران نے کہا کہ وہ کون سی دشواری ہے جو آپ نے رولز معطل کرکے یہ بل پیش کئے۔ سپیکر نے کہا کہ میں نے اجلاس ملتوی کرنا ہے اس لیے رولز معطل کیے۔ عالیہ کامران نے کہا کہ وزارت داخلہ کی کمیٹی میں ہماری نمائندگی نہیں ہے، اس بل کی شقیں اسلامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 227 کے خلاف ہے، یہ بہت حساس معاملہ ہے ایسا نہ کریں، یہ بل ہمارے اسلامی تشخص کے خلاف ہے۔ بعدازاں سپیکر نے اجلاس صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ پریکس اینڈ پروسیجر سے متعلق شق 191 اے کو نکال دیا گیا۔ سپریم کورٹ پریکس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔ مقدمات سننے کے لئے بنچ بنانے کا اختیار چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکن کمیٹی کو دیا گیا ہے۔ کمیٹی میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے علاوہ سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔ مجوزہ آرمی ایکٹ میں کہا ہے کہ آرمی چیف کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔ نئے نوٹیفکیشن کے بعد آرمی چیف کی مدت دوبارہ سے شروع ہو گی۔ آرمی چیف چیف آف ڈیفنس پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری سٹرکچرنگ اور انضمام کریں گے۔ وزیراعظم، آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس کی سفارش پر کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ تعینات کریں گے۔ کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہوگی۔ کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کو 3 سال کیلئے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی تعیناتی وزیراعظم کریں گے۔ چیف آف ڈیفنس کی تقرری کی مدت اس دن سے شروع ہو گی جب تعیناتی ہو گی۔ قانون نے وضاحت کی ہے کہ چیف آف ڈیفنس کا عہدہ تقرری کے دن سے پانچ سال کا ہوگا۔ عہدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شروع ہو گا۔ دریں اثنا ذرائع کے مطابقسپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو پاکستان کی پہلی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیف آف ڈیفنس فورسز ویں آئینی ترمیم وفاقی کابینہ گھریلو تشدد ئینی عدالت سپریم کورٹ ایوان میں پاکستان ا نے کہا کہ چیف جسٹس آرمی چیف نے ایوان ترمیم کے آرٹیکل 6 گئی ہیں کا عہدہ دیا گیا شروع ہو پیش کیا کے خلاف کیا گیا کے ساتھ پیش کی بل پیش کی گئی کے بعد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔