بھارت کے گودی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈا مہم کا پردہ فاش
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے بھارت کے گودی میڈیا گودی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈا مہم کا پردہ فاش کردیا، جھوٹ اور فریبی خبریں بنانے کا ماہر بھارتی میڈیا نے سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر دیا۔
پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک بار پھر گودی میڈیا کے جھوٹے دعوؤں اور پروپیگنڈا مہم کا پردہ فاش کر دیا اور کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے آزاد کشمیر اسمبلی میں خطاب کے دوران اپنے دور حکومت کا احاطہ کیا جو تمام چینلز پر نشر ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ چوہدری انوار الحق نے اپنی تقریر میں بھارت کی بلوچستان میں دہشت گرد پراکسیز کو سخت اور مؤثر جواب دینے کی پالیسی کا حوالہ دیا تھا اور یاد دلایا تھا کہ پھر معرکہ حق میں پاک-فوج نے بھارت کے خلاف مؤثر کارروائی کی۔
چوہدری انوار الحق نے اپنی تقریر میں معرکہ حق کے دوران بھارت کی عبرت ناک شکست کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج نے (معرکہ حق کے دوران) اندر گھس کر مارا اور ایسا مارا کہ آج تک طیاروں کی گنتی پوری نہیں ہوئی۔
بعد ازاں بھارتی گودی میڈیا نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا شروع کر دیا اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی پروپیگنڈا کرکے بھارتی سازش کا بھرپور ساتھ دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اندرونی واقعات پر بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا الزام اور فالس فلیگ کے ذریعے جنگ کا جواز پیدا کرنا بھارتی گودی میڈیا کا وطیرہ ہے اور بھارتی میڈیا لگاتار نئی دہلی دھماکے کو شواہد کے بغیر پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
گودی میڈیا نے سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کی تقریر کے حوالے سے جھوٹے دعویٰ میں کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم نے اعتراف کرلیا کہ حالیہ دہلی دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان نے کی تھی، گودی میڈیا نےسابق وزیراعظم آزاد کشمیر کی تقریر کے الفاظ کا غلط ترجمہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہندوستان لاشوں کو گن نہیں سکے گا۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ حقیقت میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیرکی تقریر سے کچھ اقتباسات ویڈیو کی شکل میں اٹھائے گئے، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کی تقریر سے اخذ کیے گئے جملے کا دہلی دھماکے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر کی تقریر میں معرکہ حق کا حوالہ دیا گیا نہ کہ بھارت کے اندر کسی حالیہ واقعے کا، تراشے ہوئے کلپ میں ایک متبادل لفظ نے جملے کے معنی کو یکسر بدل دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کے حکومتی عہدیدار بشمول اجیت ڈوول نے متعدد مواقع پر بھارت میں ممکنہ واقعات کو بلوچستان میں انتقامی کارروائیوں سے جوڑنے کی کوشش کی، اعلیٰ بھارتی حکام کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں پراکسیز کے استعمال کا کھلے عام اظہار بھی کیا جاتا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ بھارتی گودی میڈیا کی جانب سے من گھرٹ اور حقائق کے منافی بیانیہ اندرونی خلفشار کو دبانے کی مذموم کوشش ہے، وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے بھارتی گمراہ کن پروپیگنڈے کے حوالہ سے عوام کو خبر دار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ تراشے ہوئے کلپس سے نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے مکمل تقریروں کے متن کی تصدیق کریں، غیر تصدیق شدہ ویڈیو پر موجود غلط ترجمہ اور سنسنی خیز ٹیلی ویژن سب ٹائٹلز سے ہوشیار رہیں۔
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ تاریخی یا سیاسی بیان بازی کو آپریشنل اعترافات کے طور پر پیش کرنےسے گریز کیا جانا چاہیے، سیکیورٹی سے متعلق بڑے دعوؤں کو قبول کرنے سے پہلے میڈیا سے شفاف ذرائع کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزارت اطلاعات و نشریات نے کشمیر کی تقریر گودی میڈیا معرکہ حق بھارت کے میڈیا نے گیا کہ کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔