بھارتی آرمی چیف جنرل اُپندر دویڈی کے جھوٹے دعوے چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ میں بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
بھارت کے آرمی چیف جنرل اُپندر دیویدی کے جھوٹ پر مبنی دعوے چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ میں بے نقاب ہوگئے۔
کشمیر کی سکیورٹی اور دہشتگردی سے متعلق بھی ان کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
جنرل دویدی کی یہ بات بے سروپا ہے کہ اگست 2019 کے بعد کشمیر میں دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی ہے اور حالیہ کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے 31 مشتبہ افراد میں 61 فیصد پاکستانی شہری تھے۔
بھارت اب تک ان دعوؤں کی توثیق کے لیے کوئی شفاف، قابلِ اعتماد شواہد، فارنزک رپورٹس یا بین الاقوامی اداروں کے لیے قابلِ تصدیق معلومات فراہم نہیں کر سکا۔ اس عدم شفافیت کے باعث یہ بیانات حقائق کے بجائے محض سیاسی لفاظی محسوس ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے نمائندوں اور غیرجانبدار میڈیا کی رپورٹس کشمیر میں مسلسل پابندیوں، ریاستی جبر، ماورائے عدالت اقدامات اور سیاسی گھٹن کی نشاندہی کرتی رہتی ہیں۔ یہ حقائق بھارت کے ’مکمل امن و استحکام‘ کے بیانیے کو عملاً مسترد کرتے ہیں۔
بھارتی حکام کشمیر میں جاری مقامی سیاسی مزاحمت کو منظم طور پر پاکستان سے جوڑ کر کشمیری جدوجہدِ خودارادیت کو غیرقانونی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے اصل سیاسی تنازعہ مزید پیچیدہ ہوتا ہے۔
جارحانہ گفتگو نہیں، صرف دہشتگردی کا اصولپاکستان بھارت کی اس یکطرفہ اور غیرلچکدار پالیسی کو مسترد کرتا ہے جس کے مطابق کسی بھی مکالمے کو مبینہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے سے مشروط کیا جاتا ہے۔
یہ مؤقف خطے میں اعتماد سازی اور دیرپا سفارتی پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
’بات چیت اور دہشت گردی اکٹھے نہیں چل سکتے‘ جیسا جملہ بھارت کی شدید عسکری موجودگی، سخت گیر اقدامات اور کشمیریوں کے سیاسی حقوق کو محدود کرنے والی پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
اسی طرح ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے‘ جیسی تشبیہ عملی طور پر ایک سیاسی دباؤ کا حربہ ہے جس کے ذریعے بھارت آبی وسائل سمیت اہم دوطرفہ روابط کو روکنے کا جواز پیدا کرتا ہے جو علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔
آپریشن سندور اور اشتعال انگیز اسٹریٹجک بیاناتجنرل دویدی کا آپریشن سندور کو ’صرف ایک ٹریلر‘ قرار دینا اور مستقبل میں مزید سخت اور وسیع فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا نہایت غیرذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز رویہ ہے جس سے جنوبی ایشیا جیسے ایٹمی خطے میں خطرناک عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
پاکستان مؤثر دفاعی صلاحیت رکھتا ہے اور ہمیشہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل، مکالمے اور سفارتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔
بھارت کا یہ دعویٰ کہ کارروائیوں میں ’غیرمعمولی مؤثر کارکردگی‘ دکھائی گئی اور ’کسی بے گناہ شہری کو نقصان نہیں پہنچا‘ بھی شواہد سے محروم ہے، جبکہ مختلف مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس بھارتی اقدامات کے باعث پیدا ہونے والی شہری بےچینی اور مشکلات کی نشاندہی کرتی ہیں۔
بھارت کی فوجی جدیدکاری اور علاقائی عدم توازنبھارت کی بڑھتی ہوئی ملٹی ڈومین صلاحیتیں، جدید ٹیکنالوجی کا بے تحاشا حصول اور بڑھتا ہوا عسکری اعتماد نہ صرف اسلحہ کی دوڑ کو تیز کرتا ہے بلکہ خطے میں خطرناک اسٹریٹجک عدم توازن پیدا کرتا ہے۔
پاکستان دفاعی نوعیت کی جدیدکاری کرتا ہے اور بھارت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ جارحانہ قوت کے اظہار کے بجائے اسلحہ کنٹرول، اعتماد سازی اور سفارتی روابط کو ترجیح دے تاکہ غلط فہمیوں پر مبنی تنازعات کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
منی پور کا حوالہ: ایک غیرمتعلق انحرافمنی پور میں سیکیورٹی کی بہتری کا حوالہ دینا کشمیر کے منفرد سیاسی تنازعے، عوامی حقوق، اور انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
پاکستان بھارت میں جاری فرقہ وارانہ کشمکش، نسلی تنازعات اور گورننس کے مسائل کو بھارتی داخلی عدم استحکام کا مظہر قرار دیتے ہوئے بھارتی بیانیے کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔
دعوؤں کی صداقت: بنیادی سوالات برقراربھارت کے مرکزی دعوے کہ ہلاک شدہ افراد میں سے 61 فیصد پاکستانی شہری تھے کو تاحال کوئی ٹھوس، فارنزک یا دستاویزی ثبوت میسر نہیں۔
بھارت کی جانب سے انٹیلی جنس شیئرنگ سے گریز، آزادانہ تحقیقات کی اجازت نہ دینا اور شفافیت کا فقدان اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق کے بجائے سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی دعوؤں کا آزادانہ اور تنقیدی جائزہ لے، غیرجانبدار تحقیقات کی حمایت کرے اور ایسا سیاسی حل فروغ دے جو کشمیری عوام کے جائز حقوق، خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی آرمی چیف اپیندر دویدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی بھارت کی کرتا ہے کے لیے
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی