ایران روس فروغ پاتے تعلقات
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ایران اور روس ایک مضبوط اور جامع تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس تمام پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور روس کے تعلقات ایک عملی اور کثیر جہتی مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کی اقتصادی اور توانائی کی پوزیشنوں کو مضبوط کرے گی، بیرونی دباؤ سے ان کی آزادی میں اضافہ کرے گی اور خطے اور عالمی منڈیوں کو ایک واضح پیغام جائے گا۔ اب یہ بات سب قبول کر رہے ہیں کہ ایران اور روس اب طویل مدتی، پائیدار اور اسٹریٹجک تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔ تحریر: امیر حسین طیبی فرد
اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے درمیان تعلقات ایک عملی اور گہرے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، جس کا آغاز جنوری 2025ء میں 20 سالہ جامع اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہوا تھا اور اب مختلف اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس دستاویز پر جس پر ماسکو میں ایران اور روس کے صدور کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، توانائی، نقل و حمل، تیل و گیس، زراعت، سلامتی اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک متعین کرتا ہے اور اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی ترقی کے لیے ایک پائیدار اور طویل مدتی راستہ بنانا ہے۔ اس تناظر میں، اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اسے ایک ایسی دستاویز کے طور پر دیکھا جو ماسکو اور تہران کے درمیان ایک چیلنجنگ عالمی دور میں سیاسی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرتی ہے اور کہا کہ دونوں ممالک "خود مختاری، عدم مداخلت اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے اصولوں پر سنجیدگی سے عمل پیرا رہیں گے۔
ایران معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے
تہران میں اسلامی جمہوریہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے بھی بارہا اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے ملک کے عزم پر زور دیا ہے۔ روسی وزیر توانائی کے ساتھ ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پیزکیان نے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسٹریٹجک معاہدے کے تمام حصوں پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ توانائی، نقل و حمل، تیل و گیس، زراعت، صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ ایرانی صدر پزشکیان نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ "تمام شعبوں میں معاہدے کا نفاذ عملی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور ایران کے پاس اس کی دفعات پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے ایک منظم منصوبہ ہے۔
مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط اور عملی تعاون
ان پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر توانائی سرگئی تسلییف کے دورہ تہران کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کی چار مزید یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جنہیں اسٹریٹجک معاہدے کو عملی شکل دینے میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ روس کے وزیر توانائی نے صدر پزشکیان کے ساتھ ایک ملاقات میں اعلان کیا کہ گذشتہ 11 مہینوں میں توانائی کے مشترکہ منصوبوں کی پیشرفت گذشتہ ادوار کے مقابلے میں نمایاں طور پر تیز رہی ہے اور مختلف شعبوں خصوصاً توانائی میں تعاون ترقی کر رہا ہے۔
علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے امکانات
حالیہ پیش رفت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اور ماسکو کے درمیان تعاون صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں ہے۔ دونوں فریق علاقائی نقل و حمل کی راہداریوں کو تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جن میں شمالی-جنوبی محور اور بین علاقائی اقتصادی اور تجارتی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ ان راستوں کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان شعبوں میں ترقی علاقائی سلامتی اور معیشت کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔
ایران اور روس ایک دوسرے کے شانہ بشانہ پابندیاں توڑیں گے
روسی وزیر توانائی کے دورہ تہران کے ساتھ ساتھ ایران اور روس کی مشترکہ فوجی مشق بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ فوجی جہت کے علاوہ، اس مشق کا خطے اور دنیا کے لیے ایک اہم سٹریٹجک پیغام ہے۔ ایران اور روس اپنے تعاون کو اقتصادی اور توانائی کے تعاون سے بڑھ کر سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں آپریشنل اور عملی سطح تک لے جانے میں کامیاب رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے اقدامات اسٹریٹجک تعلقات کے گہرے ہونے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ سے دونوں ممالک کی اقتصادی اور توانائی کی پوزیشنیں مضبوط ہوں گی، بیرونی دباؤ پر ان کا انحصار کم ہوگا اور خطے میں استحکام اور ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ تعاون طویل مدتی اور پائیدار تعلقات کی ایک مثال ہے، جو مختصر مدت کے سیاسی تعاملات سے آگے بڑھ کر عالمی منڈیوں اور علاقائی ممالک کو واضح پیغام دیتا ہے: ایران اور روس ایک مضبوط اور جامع تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس تمام پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور روس کے تعلقات ایک عملی اور کثیر جہتی مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کی اقتصادی اور توانائی کی پوزیشنوں کو مضبوط کرے گی، بیرونی دباؤ سے ان کی آزادی میں اضافہ کرے گی اور خطے اور عالمی منڈیوں کو ایک واضح پیغام جائے گا۔
ایران اور روس ایک مضبوط اور جامع تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس تمام پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور روس کے تعلقات ایک عملی اور کثیر جہتی مرحلے پر پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت دونوں ممالک کی اقتصادی اور توانائی کی پوزیشنوں کو مضبوط کرے گی، بیرونی دباؤ سے ان کی آزادی میں اضافہ کرے گی اور خطے اور عالمی منڈیوں کو ایک واضح پیغام جائے گا۔ اب یہ بات سب قبول کر رہے ہیں کہ ایران اور روس اب طویل مدتی، پائیدار اور اسٹریٹجک تعاون کی راہ پر گامزن ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دونوں ممالک کی اقتصادی اور توانائی کی تعاون کی راہ پر گامزن ہیں تعلقات ایک عملی اور ایران اور روس ایک ایران اور روس کے کہ ایران اور روس اسٹریٹجک معاہدے وزیر توانائی عالمی منڈیوں توانائی کے واضح پیغام کے لیے ایک پیش رفت سے یہ پیش رفت معاہدے پر طویل مدتی کے درمیان کو مضبوط زور دیا اور خطے کے ساتھ خطے اور رہے ہیں کرے گی ہے اور اور اس
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔