اپنے پالیسی بیانات میں اعلیٰ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ یورینیم کی افزودگی کے ہمارے حق کو تسلیم کیا جائے۔ ہم کسی صورت یورینیم کی صفر افزودگی کو قبول نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نیویارک ٹائمز نے کچھ ایرانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ تہران کی خواہش ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں مالیاتی، بینکاری اور تیل کی فروخت کے شعبوں میں پابندیوں کا خاتمہ ہو۔ اس اخبار نے مزید کہا کہ ایران نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ وہ IAEA کے انسپکٹرز کی موجودگی میں اپنے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرنے کو تیار ہے۔ نیویارک ٹائمز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے یقین دلایا کہ وہ جوہری افزودگی کو تین سے پانچ سال تک معطل کرنے کے لئے تیار ہے۔ تاہم اخبار کے دعوے کے برعکس، اعلیٰ ایرانی حکام متعدد بار یہ کہتے پائے گئے کہ یورینیم کی افزودگی کے ہمارے حق کو تسلیم کیا جائے۔ ہم کسی صورت یورینیم کی صفر افزودگی کو قبول نہیں کریں گے۔ ان ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ صرف یورینیم کی افزودگی کی مقدار پر ہی مذاکرات کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز "سوئٹزرلینڈ" کے شہر "جنیوا" میں "ایران" اور "امریکہ" کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہوا۔ ان بالواسطہ مذاکرات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے انہیں مثبت قرار دیا۔ انہوں نے مذاکرات میں نسبتاً پیش رفت کی اطلاع دی۔ تاہم، ابھی تک ان مذاکرات میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سرکاری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

اس دوران مغربی میڈیا نے زور دیا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ" کا اصرار ہے كہ ایران، یورینیم افزودگی صفر پر لے آئے۔ نیز نائب امریکی صدر "جے ڈی وینس" نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایرانی، ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ بعض مطالبات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ قبل ازیں، ایرانی وزارت خارجہ میں اقتصادی مشیر "حمید قنبری" نے چیمبر آف کامرس کے ایک اجلاس دوران، جاری مذاکرات کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا کہ تیل، گیس، معدنی سرمایہ کاری اور حتیٰ کہ ہوائی جہاز کی خریداری کے شعبوں میں مشترکہ مفادات کو مذاکرات کے متن میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے ان مذاکرات کے بارے میں اپنے بیانات میں کہا کہ دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے اور ممکنہ معاہدے کے متن کی تشکیل کی جانب بڑھنے کے لئے، رہنماء اصولوں کے ایک مجموعے تک پہنچ گئے ہیں۔ سید عباس عراقچی کے ان بیانات کے بعد، اکسیوس ویب سائٹ نے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ایران، موجودہ خلیج کو ختم کرنے کے لئے مزید تفصیلی تجاویز کے ساتھ اگلے دو ہفتوں کے اندر مذاکرات میں واپس آئے گا۔ توقع ہے کہ تیسرا دور عنقریب، اگلے چند ہفتوں میں منعقد ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مذاکرات میں یورینیم کی کہ ایران کیا کہ کے لئے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم