پاکستان نیوی کی بحیرہ عرب میں کارروائی؛ اربوں روپے مالیت کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان نیوی کے مطابق بحیرہ عرب میں کامیاب کارروائی کے دوران تقریبا 13 کروڑ ڈالر مالیت کی 2 ہزار کلوگرام سے زائد میتھ ایمفیٹامین (آئس) برآمد کر لی گئی ہے۔
پاکستان نیوی کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (ڈی جی پی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ کمبائنڈ میری ٹائم فورس (سی ایم ایف) کا حصہ پی این تبوک نے سعودی قیادت میں قائم کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 کی معاونت میں علاقائی سمندری سیکیورٹی گشت کر رہا تھا، اس دوران پی این تبوک نے بحیرہ عرب میں موجود ایک مشکوک کشتی کو روکا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں مشکوک کشتی پر بڑی انسدادِ منشیات کارروائی کامیابی سے انجام دی گئی، جس کے نتیجے میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد آئس ضبط کی گئی، گزشتہ دو ماہ میں پی این کے جہازوں کی جانب سے تیسری لگاتار کامیاب کارروائی ہے۔
نیوی کے مطابق یہ کامیاب آپریشنز سمندر میں غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف پختہ عزم اور غیر متزلزل وابستگی کا ثبوت ہیں۔ آپریشن کا پیمانہ اور اس کی شاندار تکمیل نہ صرف پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ سی ایم ایف کے تحت بین الاقوامی تعاون کی افادیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان نیوی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔