منشیات کے خاتمے کا کیس، آئی جی اسلام آباد کو متعلقہ حکام سے میٹنگ کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالتی حکم کے باوجود آئی جی اسلام آباد کی متعلقہ اداروں کے ساتھ میٹنگ نہ ہو سکی۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو دو ہفتوں میں اے این ایف، پرائیویٹ اسکولز اتھارٹی اور دیگر حکام سے میٹنگ کی ہدایت کر دی۔
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ جہاں امن و امان کا مسئلہ اہم ہے، وہیں منشیات کا خاتمہ بھی انتہائی اہم ہے، سیکیورٹی اقدامات کے باوجود کچہری میں دھماکا ہوگیا۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ امن و امان کی صورتِ حال کے پیش نظر آئی جی کی مصروفیات تھیں، جلد میٹنگ ہوجائے گی۔
دوران سماعت نمائندہ پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے عدالت کو بتایا کہ منشیات کے تدارک کی چیکنگ کے لیے صرف تین افراد موجود ہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ 1400 تعلیمی ادارے اور آپ کے پاس صرف تین افراد ہیں؟ اس رفتار سے تو آپ کو چار سال لگ جائیں گے۔
جج نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت سے قبل متعلقہ حکام آئی جی سے میٹنگ کر کے ایک فریم ورک بنائیں۔
جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :